ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں ،ہم کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔ان کے بقول صوبے میں پہلے ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا راج ہے لہٰذا کسی اور راج کی ضرورت نہیں۔ پشاور کے علاقے حیات آباد میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈیلیور کر رہے ہیں، عوام کو ریلیف دے رہے ہیں، پھر بھی ہم پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبہ بھر سے شدید معذوری کے شکار افراد کے لیے ‘‘احساس امید پروگرام’’ کا اجرا کیا، جس کے تحت 10ہزار خصوصی افراد کو فی کس 5ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔پروگرام پر رواں مالی سال جنوری تاجون 2026 ء تک 30 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ علاوہ ازیں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت خیبرپختونخوا کا حصہ بڑھانے اور بقایاجات کے حصول کے لیے تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوگئی ہیں، 4 دسمبر کو ہونے والے این ایف سی کے اجلاس میں صوبہ کا مؤقف پیش کرنے کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے لیا۔صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔