امریکا کی جانب سے ملک بدر کیے گئے 55 ایرانی شہری جلد ایران پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ایرانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے ملک بدر کیے گئے 55 ایرانی شہری آنے والے دنوں میں ایران پہنچ جائیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے تحت ایرانی شہریوں کی دوسری بڑی بے دخلی ہے۔ ستمبر میں امریکا نے تقریباً 400 ایرانی شہریوں کی نشاندہی کی تھی جنہیں ملک بدر کیا جانا تھا، جب کہ اس سے قبل امریکا سے ملک بدر کیے گئے 120 ایرانی شہری دوحہ سے براستہ تہران واپس آئے تھے۔
بقائی نے اس موقع پر فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کی قرعہ اندازی کے لیے ایرانی فٹبال ٹیم کے وفد کو ویزا جاری نہ کرنے پر بھی امریکا پر تنقید کی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات دوطرفہ تعلقات پر اثر ڈال سکتے ہیں اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملک بدر
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔