امریکا کی جانب سے ملک بدر کیے گئے 55 ایرانی شہری جلد ایران پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ایرانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے ملک بدر کیے گئے 55 ایرانی شہری آنے والے دنوں میں ایران پہنچ جائیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے تحت ایرانی شہریوں کی دوسری بڑی بے دخلی ہے۔ ستمبر میں امریکا نے تقریباً 400 ایرانی شہریوں کی نشاندہی کی تھی جنہیں ملک بدر کیا جانا تھا، جب کہ اس سے قبل امریکا سے ملک بدر کیے گئے 120 ایرانی شہری دوحہ سے براستہ تہران واپس آئے تھے۔
بقائی نے اس موقع پر فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کی قرعہ اندازی کے لیے ایرانی فٹبال ٹیم کے وفد کو ویزا جاری نہ کرنے پر بھی امریکا پر تنقید کی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات دوطرفہ تعلقات پر اثر ڈال سکتے ہیں اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملک بدر
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔