لوور میوزیم میں پانی کا رساؤ: مصری نوادرات کی سینکڑوں نایاب کتابیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
گزشتہ ماہ ہونے والے ایک پانی کے رساؤ نے پیرس کے لوور میوزیم کے مصری نوادرات کے شعبے میں موجود سینکڑوں نایاب کتابوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس حالیہ واقع سے دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے عجائب گھر کی بگڑتی ہوئی حالت ایک بار پھر اجاگر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا ہے جب چند ہفتے قبل ہی ایک جرات مندانہ جیولری چوری نے میوزیم کی سیکیورٹی خامیوں کو بے نقاب کیا تھا۔
Hundreds of works were damaged at the Louvre in Paris when a pipe burst because of flooding, the museum’s deputy general administrator said.
— NBC News (@NBCNews) December 8, 2025
میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 400 نایاب کتابیں متاثر ہوئیں، اور اس کی وجہ ناقص پائپ لائن کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مصری نوادرات کے شعبے نے طویل عرصے سے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ کتابوں کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے، مگر اس ضمن میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔
لوور کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر فرانسس اسٹین بوک نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پانی کا رساؤ اس لائبریری کے 3 کمروں میں سے ایک میں ہوا جہاں مصری نوادرات کی نادر کتب رکھی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پیرس: لوور میوزیم سے تاریخی تاج و جواہرات چوری، چوروں نے 7 منٹ میں واردات مکمل کی
ان کے مطابق 300 سے 400 متاثرہ کتابوں کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم گنتی جاری ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ کتابیں وہ تھیں جنہیں ماہرینِ مصر استعمال کرتے ہیں، تاہم کوئی انتہائی قیمتی یا تاریخی نادر کتاب متاثر نہیں ہوئی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اس مسئلے کی نشاندہی برسوں سے موجود تھی اور مرمت کے لیے شیڈول تیار کیا جا چکا ہے، جس کا آغاز ستمبر 2026 میں ہوگا۔
واضح رہے کہ 19 اکتوبر کو 4 چور دن دیہاڑے 102 ملین ڈالر مالیت کے زیورات لے اڑے تھے، جس سے میوزیم کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھے۔
مزید پڑھیں: پیرس: میوزیم سے چوری کے بعد بچ رہنے والے جواہرات بینک آف فرانس منتقل
اسی طرح، نومبر میں ڈھانچے کی کمزوریوں کے باعث یونانی برتنوں کی گیلری اور اس سے منسلک دفاتر کو جزوی طور پر بند کرنا پڑا۔
فرانس کی سرکاری آڈٹ باڈی کور دے کونت کی اکتوبر میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق میوزیم اپنی خستہ حال انفرا اسٹرکچر کو اپ ڈیٹ کرنے میں ناکام ہو رہا ہے، جس کی ایک وجہ فن پاروں پر حد سے زیادہ اخراجات بھی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیرس خستہ حال عجائب گھر فن پاروں لوور میوزیم مصری نوادرات یونانی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیرس خستہ حال عجائب گھر فن پاروں لوور میوزیم مصری نوادرات یونانی مصری نوادرات لوور میوزیم کے مطابق
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔