طلحہ انجم مسلسل دوسری بار دنیا بھر میں ’سب سے زیادہ سُنے جانے والے پاکستانی آرٹسٹ‘ قرار
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستانی میوزک انڈسٹری کے مقبول رَیپر طلحہ انجم نے مسلسل دوسرے سال بھی پاکستان، بھارت، امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں ’سب سے زیادہ سُنے جانے والے پاکستانی آرٹسٹ‘ ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔
سوشل میڈیا پر کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے طلحہ انجم نے ناقدین پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہیں نیچا دکھانے کے لیے کی جانے والی سازشیں، بائیکاٹس، بین، طنز، قانونی نوٹسز اور جھوٹی خبروں کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔
ریپر نے کہا کہ ’’اردو رَیپ آج بھی وہیں نمبر ون پر کھڑا ہے جہاں ایک سال پہلے تھا‘‘۔
انہوں نے اس کامیابی کو خدا کا خاص کرم قرار دیتے ہوئے مخالفین کو مشورہ دیا کہ ’’اگر آپ میرے خلاف ہیں تو دعائیں کریں اور محنت بڑھا دیں، ہم اگلے سال دوبارہ ملاقات کریں گے۔‘‘
واضح رہے کہ سالانہ ریپڈ رپورٹ میں اس سال پاکستانی میوزک اسٹریمنگ میں 70 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ ٹاپ 10 آرٹسٹس میں طلحہٰ انجم کے ساتھ عمیر، حسن رحیم، عاطف اسلم اور نصرت فتح علی خان بھی شامل ہیں۔
Most Streamed Pakistani Artist, 2 years in a row.
They try so hard to make everybody hate you for being yourself, they go through all this trouble just to see you fall.. with their little schemes, boycotts bans, petty disses, legal notices, sham news… pic.twitter.com/DC6Zr0fdTv
— Talha Anjum (@talhahanjum) December 6, 2025
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔