Jasarat News:
2026-06-03@03:49:01 GMT

ہوا میںنمی کی کمی: مسائل اور ان کا حل

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251202-03-4
مسلسل فون آرہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب سانس نہیں آرہا۔ سانس میں مشکل ہے۔ بچہ رو رہا ہے، ناک بند ہو رہی ہے، ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو سانس کی بیماری کا علاج کروا رہے تھے، بچے بھی اور نزلہ کھانسی کے مریض جو کئی کھانسی کے شربت پی چکے تھے فائدہ نہیں ہورہا تھا۔ سردی کا موسم شروع ہوتے ہی موسم خشک ہوگیا، کراچی میں باہر کی فضا کی Humidity (ہوا میں پانی کا تناسب) بہت کم ہوگیا، کراچی میں 35-30 فی صد، کوئٹہ میں 20 فی صد، چترال میں 15-20 فی صد ہوا میں نمی کا تناسب دن کے مختلف اوقات میں کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ سردیوں میں خشک ہوا کی وجہ سے وائرس اور بیکٹریا خوش ہوتے ہیں ان کی زندگی بڑھ جاتی ہے اور سانس کی نالی کو ٹارگٹ بناتے ہیں۔ سرد خشک ہوا سے سانس کی نالی بھی خشک ہوجاتی ہے، خشک سانس کی نالیوں پر وائرس باآسانی حملہ کرکے کامیاب ہوجاتے ہیں انفیکشن بار بار ہوتا ہے۔ بچوں میں سانس کی نالیاں بہت پتلی ہوتی ہیں، اس لیے بچوں میں مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ خشک ہوا سانس کی نالیوں میں تنگی پیدا کرتی ہے، اس لیے بار بار ناک بند ہوجاتی ہے، بچے منہ کھول کر سانس لیتے ہیں۔ جلد پر بھی خشکی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بار بار خارش ہوتی ہے۔

خشک موسم کے صحت پر اثرات: صرف سانس کی نالی کی تکلیف تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ نیند کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کے بار بار اٹھنے، رونے سے ماں باپ کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ ماں باپ کے سانس میں تکلیف، نزلہ کھانسی کی وجہ سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ بار بار خارش ہونا بھی نیند کو متاثر کرتا ہے۔ رات کی نیند متاثر ہونے سے گھر، آفس، کاروبار ہر جگہ لوگوں میں چڑچڑا پن آجاتا ہے جس سے معاشرے میں نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں، تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔

مسئلہ کا حل کیا ہے؟: خشک موسم کے بارے میں آگاہی معاشرے میں عام کی جائے۔ انٹرنیٹ Google سرچ انجن والا موبائل ہر گھر میں موجود ہے۔ روزانہ یہ سرچ کرلیں Humidity in Karachi یا جس شہر کی بھی معلوم کرنی ہے اس طرح ہر اسمارٹ فون استعمال کرنے والا خود معلوم کرسکتا ہے کہ ہوا میں نمی کتنی ہے۔ ہیومیڈٹی عام طور پر 40-50 فی صد ہو تو ٹھیک ہے کم ہو تو اقدامات کرنے پڑیں گے۔

ایک حقیقت جو ہم میں سے اکثر کا مشاہدہ ہے کہ جب کسی مریض کو آکسیجن دی جاتی ہے تو پانی کی بوتل سے گزار کر دیتے ہیں، اس سے یہ پتا چلا کہ سانس میں جو ہوا جسم میں جائے اس میں پانی کی مقدار ضرور ہونی چاہیے۔ ہیومیڈٹی گھر کے باہر کی بتائی جاتی ہے گھر میں نمی کا تناسب باہر سے کم ہوتا ہے اگر باہر کی 40 ہے تو اس کا مطلب ہے گھر کی 35 ہوگی گھر کی 10 فی صد تک کم ہوتی ہے۔

کم ہیومیڈٹی پر یہ کام کریں: ہیومیڈیفائر استعمال کریں یہ پانی پھینکتا ہے مسلسل بجلی کا خرچ بھی ہوتا ہے۔ کمرے میں ایک یا 2 پانی کے برتن بڑے پیالے ٹب وغیرہ پانی کے رکھ سکتے ہیں۔ پانی اُڑتا رہے گا اور ہیومیڈٹی بڑھ جائے گی۔ کمرے میں گیلی تولیا لٹکا سکتے ہیں یا کوئی دوسرے گیلے کپڑے لٹکا سکتے ہیں۔

گھر کے افراد کے مسائل کا حل: بچوں کی ناک میں نارمل سیلائن کے قطرے بار بار ڈالتے رہیں۔ ناک سے خون کی شکایت ہو، خشکی زیادہ ہو تو Polyfax آنکھوں والا مرہم لگائیں۔ 4 لونگ ڈال کر بھاپ لیں یا نمک کے پانی سے غرارے کریں یا ناک کو نمک والے پانی سے اندر تک صاف کریں۔ جلد پر تیل یا لوشن کریم لگائیں۔

ڈاکٹر خالد مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہوتے ہیں سانس کی ہوا میں ہوتی ہے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا