پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن چھوٹی چھوٹی لڑائیاں اور احتجاج سر عام ہوتا نظر آتا ہے لیکن مجال ہے سرکار کے سر پر جوں رینگتی ہو، اب بات یہ ہے کہ جوں ہے ہی نہیں، رینگے گی کہاں سے؟
اسی لیے گزشتہ دنوں پانی کے ستائے ہوئے لوگوں نے پمپنگ اسٹیشن پر دھاوا بول دیا، وہ تو بھلا ہو سنتری بھائیوں کا کہ انھوں نے حالات کو کنٹرول کر لیا ورنہ تو وہ پانی کا چھڑکاؤ بھی کر سکتے تھے، بے چاری پریشان حال خواتین کو یہ ظلم بھی برداشت کرنا پڑتا، چونکہ احتجاج میں خواتین کی تعداد دو تین گنا زیادہ تھی۔ہمیں اس موقع پر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آگیا ہے:
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے تو من تیرا نہ تن
یاد آنے کی وجہ یہ تھی کہ اب یہ دور، دور بے رحمی اور بے حسی کا ہے، حیا جیسا قیمتی موتی اپنا آپ کھو چکا ہے، احساس مرگیا ہے، غیرت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، لہٰذا پانی پانی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔
شرم کا ایک قطرہ بھی آنسو بن کر آنکھ سے نہیں بہتا ہے۔ اب تو یہ وقت آ گیا ہے کہ غیر کے آگے جھکنا تو دورکی بات ہے اب تو مع کشکول کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں۔
ستم رسیدہ حضرات کی شکایت بجا تھی کہ اگر شہر میں پانی نہیں ہے تو پھر خالی ٹینکر پانی سے کیسے بھر جاتے ہیں؟ کئی ماہ قبل ہمیں بھی پانی کی ایسی مار پڑی کہ دن میں تارے نظر آ گئے اور رگ جاں کی تڑپ نے گہرے دکھ سے ہمکنارکیا۔
افسوس اس بات کا تھا کہ ایک تو واٹر بورڈ کا بل ماہانہ ادا کرنا ناگزیر ہے، ٹینکر کا خرچ علیحدہ، اس کے ساتھ ہی ٹرک ڈرائیوروں کے الگ نخرے، کبھی اس قدر شفقت کہ فون بند کرکے جان چھڑانے کی خواہش جاگتی ہے اور کبھی اتنا غصہ گویا فون سے باہر آ جائیں گے۔
’’ ابی تم بار بار فون کرکے تنگ کرتا ہے، اپن کے پاس پانی نہیں ہے تو ام کاں سے لاوے، بند کرو فون۔‘‘نشے کے عادی لوگ، اسی حالت میں ٹینکر چلاتے ہیں اور بے شمار راہ گیروں کو گنگناتے ہوئے کچل دیتے ہیں۔ان کی دل لگی ٹھہری، مسافر اپنی جان سے گئے اور حکومت کو ایسے سانحات کی ذرہ برابر فکر نہیں۔ یہی خونی واقعات خبروں اور افسانوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
ہر ایک دریا ہزار سال کا افسانہ لکھتا ہے
کراچی کے شہری پانی کے لیے ترس گئے ہیں جب کہ پانی زندگی ہے، اس کے بغیر جینا محال ہے، بنیادی ضرورتوں میں سب سے زیادہ اہمیت پانی کی ہے، زندگی بچانے اور پینے کا صاف پانی خریدنے کے لیے اکثر گھروں میں پیسے ہی نہیں۔
چونکہ آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے، کاروبار ختم ہو چکا ہے، مہنگائی کے طوفان میں تنگ دست اور فاقہ کش جیتے جی مر چکے ہیں، مقتدر حضرات انجام سے بے خبر ہیں، منصف کا قلم غلط فیصلے کرتے نہیں تھکتا ہے، غیر قانونی زمین پر ان عمارات کو مسمار کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیا جاتا ہے۔
لیکن یہ بات نہیں سوچتے ہیں کہ اس بلڈنگ میں رہنے والے مکین اپنے خاندان کو لے کر کہاں جائیں؟ وہ بھی راتوں رات یا پھر ایک دو دن بعد اتنی مختصر مہلت میں گھر اور گھر گرہستی چھوڑی جا سکتی ہے جو مشکل سے پیٹ کاٹ کر بنائی گئی ہو، ورنہ ایک متوسط طبقے کا فرد اسی سوچ میں غلطاں و پیچاں رہتا ہے۔
گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے
اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے
گھر اور گھر کی آرائش کے لیے ضرورت مند، خوبصورت چیزوں کا تصور تو کر سکتا ہے لیکن کھانے پینے کی اشیا اور صاف و شفاف پانی کے تصور سے بات نہیں بنتی ہے۔
پانی اور اشیا خور و نوش کی ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے۔ خیال و خواب کی دنیا میں زندگی بسر کرنے والے حضرات بنا پانی اور غذا کے زندگیاں نہیں گزار سکتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب فٹ پاتھوں سے تجاوزات کا خاتمہ کرایا گیا تھا، اس عمل میں بے شمار لوگ بے روزگار ہوئے تھے، گھروں کے چولہے جلنا بند ہو گئے تھے، ٹھیلے اور خوانچوں والوں کو نہ صرف یہ کہ ہٹایا گیا تھا بلکہ اکثر اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ پولیس ان کا ساز و سامان بھی زمین پر گرا دیتی اور ساتھ میں ان چھوٹے تاجروں کی کمر پر ڈنڈے بھی برسانے سے باز نہ آتی تھی۔
اب وہ بے چارے جائیں تو کہاں جائیں کہ رزق حلال کمانے کے لیے مشکلات کا سامنا معمول کی بات ہے۔ مزید ستم یہ بھی ہے کہ ان بے چاروں سے بے ضمیر اور بے حس اپنی وردی کا رعب جھاڑتے ہوئے مفت میں چیزیں اٹھا کر کھاتے ہیں اور ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔
سال دو سال کے بعد پھر ٹھیلوں اور پتھاروں نے اپنی جگہ بنا لی ہے یہ سب کچھ کس کی ایما پر ہوتا ہے؟ اس حقیقت سے ہر شخص واقف ہے۔ رشوت اور لوٹ مار میں بہت طاقت ہے لیکن جب حقیقی طاقت، بادشاہوں کا بادشاہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے تو بڑے بڑوں کی چھٹی ہو جاتی ہے، تخت والے تختے پر آ جاتے ہیں اور محلوں کے رہنے والوں کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔
حال ہی میں پانی اور تجاوزات کے حوالے سے ایک خبر نظر سے گزری، وہ یہ ہے کہ کمشنر نے تجاوزات کے قائم ہونے کے مقدمات درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں نے کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں پھر تجاوزات نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔
کمشنر نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں پر تجاوزات قائم کرنے والوں کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دکانوں کو سیل کر دیا جائے گا اور ان کے بھی مزے ختم جو کرسیاں اور میزیں دکانوں کے سامنے سجاتے ہیں اور اپنے اطراف کے نوجوانوں کے لیے گرما گرم چائے سستے داموں فروخت کرتے ہیں، ساتھ میں گرم گرم پراٹھے بھی۔
اس طرح دکاندار اور ہوٹل والے بھی کچھ کما لیتے ہیں اور باہر ناشتہ کرنے والے بھی سستا بل ادا کرکے بھوک کو مٹانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ذمے داران افسران مستقل طور پر نگرانی کیوں نہیں کرتے؟ آخر یہ وقفہ آیا ہی کیوں؟ ڈھیل دے کر رسی کھینچنا غریب اور مظلوم طبقے پر محض ظلم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔زندگی اس شعر کے مترادف ہے :
تم کو رقبے ملے ہیں ورثے میں
تم نہ سمجھو گے، بے گھروں کا دکھ
مفلس زدہ انسان کی زندگی بھی کیا زندگی ہے، صبح و شام تفکرات کی بھٹی میں جلنا، گویا اس کا مقدر ہے۔ وہ اپنی تقدیر سنوارتے سنوارتے موت کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے۔
زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
حکومت نے اپنی عوام سے زندگی گزارنے کی ہر سہولت چھین لی ہے، اسکول اور اس کی فیس نہ کتابوں کے خریدنے کے لیے پیسے، غریب اور بے بس انسان بے شمار مصائب اور قدرتی آفات کا شکار ہے۔
گزشتہ ماہ و سال میں سیلاب نے لوگوں کی زندگیوں کو ڈبو دیا، گھر بار سب برباد ہو گیا، ہمیشہ کی طرح پانی اس سال بھی ضایع ہوا۔ آج بھی ہمارا ملک پانی کے لیے بھارت کا محتاج ہے، وہ اپنی ہار کا بدلا پانی بند کرکے یا پھر چھوڑ کر لے رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور دکھ جھیل رہے ہیں۔ کسی شاعر کے مطابق۔
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں، کہ اس میں ڈوب جائیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاتے ہیں پانی کے ہیں اور اور بے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔
اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔
اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔
پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز