کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
مرمتی کام 29 نومبر سے 1 دسمبر تک جاری رہے گا اور اس دوران متاثرہ لائن کی بندش ناگزیر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے مختلف علاقوں میں 3 دن کیلئے پانی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے بی آر ٹی کوریڈور میں واقع پرانے 60 انچ قطر کے بوسیدہ وال کو جدید پائپ لائن سے تبدیل کرنے کا کام شروع کر دیا۔ ترجمان کے مطابق یہ مرمتی کام پیپلز سیکریٹریٹ کے قریب انجام دیا جا رہا ہے، تاکہ پانی کی ترسیل کا نظام مزید محفوظ، مستحکم اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مرمتی کام 29 نومبر سے 1 دسمبر تک جاری رہے گا اور اس دوران متاثرہ لائن کی بندش ناگزیر ہوگی۔ مرمتی کام 48 گھنٹوں میں مکمل کر لیا جائے گا، کام کے دوران صدر ٹاؤن، جمشید روڈ، پی آئی بی اور لائنز ایریا میں پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط کریں اور ضرورت کے مطابق پیشگی ذخیرہ کرلیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔