data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
موجودہ دور میں پانی کی بوتلوں کا استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، طالبعلموں سے لے کر دفاتر جانے والے افراد سب ان کا استعمال کرتے ہیں۔ویسے تو ان بوتلوں میں صاف پانی بھرا جاتا ہے مگر کیا انکی صفائی کا خیال نہ رکھنے سے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایسی بوتلیں جراثیم کا گڑھ ہوتی ہیں، چاہے ان میں کسی بھی قسم کا سیال بھرا جائے۔ ضروری ہے کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا جائے۔پانی کی بوتلوں میں جراثیم ہمارے منہ کے ذریعے اس وقت پہنچتے ہیں جب ہم پانی پیتے ہیں اور ہاتھوں سے جب ہم اس کے ڈھکن کو چھوتے ہیں۔بوتل میں وہ حصہ جہاں سے پانی باہر نکلتا ہے، وہ جراثیم کی افزائش نسل کا مرکز بن جاتا ہے جن میں صحت کے لیے نقصان دہ بیکٹیریا اور دیگر جراثیم موجود ہوسکتے ہیں۔بین الاقوامی یونیورسٹی کی طبی ماہر کے مطابق پانی کی بوتلوں کی صفائی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔اگر بوتلوں کی صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو پیٹ درد، گلے میں خراش اور سنگین کیسز میں الرجی یا دمہ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔خیال رہے کہ ماہرین بوتل صاف کرنے کے طریقہ کار کو ابھی تک واضح نہیں کرسکے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی صفائی
پڑھیں:
عوامی نمائندگان نے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت) جمعیت علما اسلام ضلع سکھر کے امیر حضرت مولانا محمد صالح انڈھڑ نے کہا ہے کہ سکھر شہر سے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندگان نے عوام کو بنیادی اور بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ شہر کی صورتحال دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے اور انتظامیہ کی غفلت کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی نیو تعلقہ سکھر کے مختلف یونٹوں، نیو پنڈ اور دیگر علاقوں کے دورے کے دوران علاقہ معززین سے ملاقاتوں میں کہی۔اس موقع پر ان کے ہمراہ مولانا عبد الکریم جونیجو، قاری عبدالمنان سمیجو، مولانا محمد صدیق کندھڑ، قاری اسد اللہ چاچڑ، قاری حبیب اللہ لاشاری، قاری عمر احمد جونیجو سمیت یونٹوں کے امراء ، نظماء اور معززین موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ سکھر آج بھی صاف پینے کے پانی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ بیشتر علاقوں میں پینے کا پانی یا تو دستیاب نہیں یا گندا فراہم کیا جا رہا ہے۔ گھریلو خواتین دور دراز سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں، جبکہ شہری پانی کے مسئلے کو شہر کا سب سے بڑا بحران قرار دیتے ہیں۔مولانا صالح انڈھڑ نے کہا کہ صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات نے شہر کو مچھروں، گندگی اور بیماریوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ گلیاں اور سڑکیں کچرے سے اٹی پڑی ہیں، نالے بند ہونے کے باعث معمولی بارش میں بھی سیوریج کا پانی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے، جس سے ٹریفک جام اور بدبو کے مسائل عام ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جگہ جگہ گڑھے کھود کر چھوڑ دیے گئے ہیں، جن سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بازاروں سے لے کر رہائشی علاقوں تک کوئی بھی مقام ایسے کاموں سے محفوظ نہیں ،ناقص اسٹریٹ لائٹس سسٹم سے رات کے وقت وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوٹ مار، موٹر سائیکل چوری اور رہزنی کے واقعات نے عوام کا سکون چھین لیا ہے۔