data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ٹی ایم سی ماڈل کالونی کے تحت ملیر جی ایریا لیاقت مارکیٹ میں 60سے زائد گلیوں میں 1500گھرانوں کے لیے پانی کی فراہمی کے منصوبے کا افتتاح اور ملیر ہالٹ سے سعود آباد ریلوے لائین کے ساتھ 3.

5کلو میٹر نئی سڑک کی تعمیر کا سنگ ِ بنیاد رکھ دیا، منعم ظفر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1500گھرانوں کو پانی کی فراہمی اور 3.5کلو میٹر نئی سڑک کی تعمیر کا آغاز ماڈل ٹائون کی جانب سے عوام کے لیے تحفہ ہے ، جماعت اسلامی کی عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب پیش رفت جاری ہے ، ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اختیارات و وسائل سے بڑھ کر کام کریں گے اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں ، جی ایریا کے علاقے میں عوام کو 25سال بعد لائنوں میں پانی کی فراہمی شروع کی گئی ہے ، جماعت اسلامی اندھیروں میں امید کی کرن ہے اور امانت و دیانت اور عوامی خدمت کا نام ہے ، اہل کراچی اپنے حق کے لیے کھڑے ہوں ، اجتماعی جدو جہد میں شامل ہوں اور تعمیر و ترقی و مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کے دست و بازو بنیں ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع ایئر پورٹ محمد اشرف ، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق ، ٹائون چیئر مین ماڈل کالونی ظفر احمد خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ فراہمی آب کے منصوبے کے افتتاح اور سڑک کے سنگ ِ بنیاد کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ منعم ظفر خان سے اظہار تشکر کیا اور جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندوں کی کوششوں و جدو جہد کو سراہا ۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ مہنگائی کے دور میں عوام بجلی کے بھاری بلز ادا کریں یا پینے کے لیے پانی خریدیں،شہر میں ٹینکر مافیا کا راج ہے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن مافیا کی سرپرستی کررہا ہے، کراچی کے شہریوں کا حق ہے کہ انہیں بنیادی ضروریات زندگی فراہم کی جائیں۔ کراچی کا ہر شہری ٹیکس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود شہریوں کو ان کا حق نہیں دیا جاتا۔ 60 گلیوں میں 1500 گھرانوں میں پانی پہنچایا جارہا ہے جبکہ گزشتہ ڈھائی سال میں 800 گھروں کو پانی پہنچایا جا چکا ہے ۔ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر مین نے کروڑوں روپے کی خطر رقم پانی کی فراہمی پر خرچ کی ، اب واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ عملے کی ذمہ داری ہے کہ مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی کو ممکن بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ 2 سال میں 170 سے زائد پارکس بحال اور کھیلوں کے میدانوں کو آباد، 42 سرکاری اسکولوں از سر نو بحال کیے۔ بچوں کی رجسٹریشن میں 7000 کااضافہ ہوا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد اسٹریٹ لائٹس لگاکر گلیوں اور سڑکوں کو روشن کیا ہے۔ منعم ظفر خان نے سڑک کی تعمیر کے آغاز و سنگ بنیاد کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ملیر کے رہنے والوں کے لیے ماڈل کالونی ٹاؤن کی جانب سے وعدے کی تکمیل کی جانب پیش رفت ہے ،ہمارا وعدہ تھا کہ اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے ، وعدے کے مطابق جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر مینز اپنے محدود وسائل میں اختیارات سے بڑھ کر کام کررہے ہیں، سڑکیں ماضی میں بھی بنتی رہی ہیں۔ کروڑوں روپے خرچ کرکے سڑکیں بنائی جاتی ہیں لیکن سیوریج کا نظام درست نہ ہونے کی وجہ سے سڑک ٹوٹ جاتی ہے۔ ہم نے تعمیر میں معیار کو مدنظر رکھا ہے۔ ایم ایم عالم روڈ کو کے ایم سی نے بنانا تھا جس پر ابھی تک کام شروع ہی نہیں ہوا جبکہ لیاقت علی شاہراہِ پر سیوریج کا نظام درست نہیں تھا جماعت اسلامی نے اپنے وسائل سے سیوریج کا نظام درست کیا اور شاہراہ تعمیر کی۔ایک جانب ہم شہریوں کے حقوق کے حصول کے لیے مزاحمت کررہے ہیں دوسری جانب جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کررہے ہیں۔ نیو کراچی ٹاؤن میں 600 گلیوں میں پیور بلاکس لگائے گئے۔ مہنگائی و بے روزگاری کے دور میں ہمارے ٹاؤن چیئر مینز تعلیم و صحت کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سندھ حکومت کے ماتحت ہے ، جن کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے ، شہر کراچی کا المیہ یہ ہے کہ انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ محمد اشرف نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر مین و یوسی چیئرمینز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے انتھک محنت کی۔ جماعت اسلامی خدمت و دیانت کی علامت ہے اور ہم عوامی خدمت جاری رکھیں گے اور عوام کو مزید خوشخبریاں دیں گے ۔آج 25 سال کے بعد 60 سے زائد گلیوں کو لائنوں میں پانی ملنا ممکن ہوسکا۔ جماعت اسلامی کے منتخب ٹاؤن چیئرمین اور یوسی چیئرمینز کے پاس اختیارات نہیں ہے، واٹر بورڈ کے چیئرمین قابض مئیر مرتضیٰ وہاب ہیں جو مسائل حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، عوام کے دباؤ سے واٹر بورڈ سے این او سی لے کر جی ایریا کے لوگوں کے لیے پانی کا مسئلہ حل کروایا۔ کے الیکٹرک یا واٹر بورڈ کا مسئلہ ہو جماعت اسلامی عوام کی آواز بنتی ہے، محمد فاروق نے وزیر اعلی سندھ، وزیر بلدیات سے مطالبہ کیاکہ کراچی کے تمام ٹاؤنز کو2 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا جائے۔سندھ حکومت اختیارات و وسائل دینے پر تیار نہیں ہے اور ٹاؤن چیئرمین کے پاس صرف اور صرف روڈ کٹنگ کے پیسے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے وعدے کے مطابق کام کررہی ہے اور کرتی رہے گی۔ ظفر احمد نے کہا کہ ساڑھے تین کلو میٹر پر مشتمل شاہراہِ کی تعمیر شروع کی جارہی ہے جو 30 مارچ2026 تک مکمل ہو جائے گی ، اس شاہراہِ سے 6 یوسیز کے رہائشی استفادہ کریں گے۔آج اہلیان جی ایریا کے لیے خوشی کا موقع ہے، ہم نے وعدہ کیا تھا اور آج وعدہ پورا کررہے ہیں اور اہلیان جی ایریا کو 25 سال بعد لائنوں میں پانی فراہم کررہے ہیں۔ ہمارا اگلا ہدف گلیوں اور سڑکوں میں پیور بلاکس لگانے کا ہے اور بہت جلد یہ کام بھی شروع کیا جائے گا۔ اس موقع پر ٹاؤن وائس چیئرمین ماڈل کالونی فیصل باسط، چیف کوآر ڈی نیٹر ٹائون نجم الدین ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ٹی ایم سی ماڈل کالونی کے تحت ملیر ہالٹ سے سعود آباد ریلوے لائن کے ساتھ 3.5کلو میٹر نئی سڑک کی تعمیر کا سنگ بنیاد اور ملیر جی ایریا لیاقت مارکیٹ میں 60سے زاید گلیوںمیں 1500گھرانوںکے لیے پانی کی فراہمی کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر نئی سڑک کی تعمیر کا امیر جماعت اسلامی پانی کی فراہمی ماڈل کالونی کے لیے پانی کررہے ہیں سیوریج کا میں پانی جی ایریا کی جانب کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری