ہمارا مطالبہ ہے کہ ICCBS کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کا بل واپس لیا جائے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی کی عوام کو بیدار رہنا ہوگا، جماعت اسلامی نے ہزاروں کی تعداد میں عوامی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، ہم لوگوں کی املاک پر قبضے کرنے کی کوششوں پر مزاحمت کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جہالت سب کے لیے پیپلز پارٹی کا تعلیمی منشور ہے، جمہوریت کا راگ الاپنے والی پیپلز پارٹی جمہوریت کی نفی اور آمریت و فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، پہلے صوبائی اسمبلی سے بل پاس کرواکے جامعات کی خود مختاری پر حملہ کیا گیا، اب ICCBS کو جامعہ کراچی سے الگ کر کے صرف طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے بلکہ من پسند افراد کو نوازنے اور چند ڈونرز کی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، 70ء کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے اداروں کو قومیایا لیکن آج پیپلز پارٹی پر اداروں کو پبلک پرائیویٹ پاٹنرشپ کے حوالے کرنے کا جنون سنوار ہے اور تعلیمی اداروں سے جان چھڑا کر نجکاری کے نام پر ان کا سودا کر رہی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ICCBS کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کا بل واپس لیا جائے، 2019ء میں سندھ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد اور 2022ء کے اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ کے تحت تعلیمی اداروں میں فوری طور پر طلبہ یونین کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ جامعہ کراچی کا اپنا ایک قاعدہ ضابطہ ہے، اس کے رولز ریگولیشن موجود ہیں، سینیٹ، سینڈیکیٹ موجود ہے، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری لی جاتی ہے لیکن کسی مشاورتی فورم سے کوئی ڈسکشن کی گئی نہ کوئی بات کرنا گوارہ نہیں کیا، یہ غیر جمہوری طرز عمل ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، پہلے جامعات کی خود مختاری پر حملہ کیا گیا، صوبائی اسمبلی سے بل پاس کروا کے جامعات میں کوئی بھی 19 یا 20 گریڈ کا بیوروکریٹ جس کا تعلیمی یا تحقیقی تجربہ نہ بھی ہو اسے جامعات کا وائس چانسلر بننے کی راہ ہموار کی گئی، عالمی سطح پر ایک باوقار ادارے کو چند لوگوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، یہ ادارہ 1967ء میں مشہور سائنسدان سلیم الزماں صدیقی نے قائم کیا تھا جو آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، پوری دنیا میں ICCBS ایک تسلیم شدہ تحقیقی مرکز کے طور تسلیم کیا جاتا ہے جو کراچی یونیورسٹی کی بھی ایک شناخت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلفٹن میں پارکس کی دیواریں گرائی جارہی ہیں اور کہتے ہیں کہ اندر کا منظر نظر آئے اندر تو کچرا کنڈیاں بنی ہوئی ہیں، عمر شریف پارک کی دیواریں بلند کی جارہی ہیں، فٹ سول بنا کر کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر پارکوں پر قبضے کیے جارہے ہیں جبکہ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلشن اقبال میں 2 دن پہلے وکلا کے بھیس میں کچھ عناصر پولیس کے ساتھ آئے اور گھروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی، ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں جماعت اسلامی کے کارکنان اور اہل محلہ کو جن کی مزاحمت کے نتیجے میں وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے، کراچی کی عوام کو بیدار رہنا ہوگا، جماعت اسلامی نے ہزاروں کی تعداد میں عوامی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، ہم لوگوں کی املاک پر قبضے کرنے کی کوششوں پر مزاحمت کریں گے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی جامعہ کراچی کرنے کی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا جز ہے حیثیت تبدیل نہ کی جائے، اکیڈمی آف سائنس کا وزیراعلی کو خط
کراچی:جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آئی سی سی بی ایس کو خودمختار حیثیت دینے کا معاملہ مزید متنازعہ ہوگیا، وفاقی ادارے "پاکستان اکیڈمی آف سائنس" نے وزیراعلی سندھ سے آئی بی سی سی ایس کو جامعہ کراچی کے جز کے طور پر برقرار رکھنے کی سفارش کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اس حوالے سے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ اگر آئی سی سی بی ایس (انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز ) کی منیجمنٹ یا گورننس کے کچھ معاملات ہیں تو پاکستان اکیڈمی آف سائنس اس کے لیے اپنی خدمات دینے کو تیار ہے۔
اکیڈمی کے صدر اور ممتاز نیشنل پروفیسر کوثر عبداللہ ملک نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو بھجوائے گئے مکتوب میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ جامعہ کراچی کے ادارے آئی سی سی بی ایس کو بنا کسی جواز اور قانونی طریقہ کار اختیار کیے private individuals نجی حیثیت میں غیر سرکاری افراد کے حوالے کیا جارہا ہے۔
پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے فیلوز کی جانب سے لکھے گئے اس مکتوب میں اکیڈمی کے صدر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بی ایس پاکستان میں سائنسی تحقیق کا نامور اور سرفہرست اداروں میں سے ایک ہے جو قومی سطح سائنس کے شعبے میں ہونے والی جدید پیش رفت کو سامنے لارہا ہے جبکہ آئی سی سی بی ایس سے وابستہ سائنس دان نہ صرف کئی سول ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا جاچکا ہے آئی سی سی بی ایس سے تربیت یافتہ پروفیشنلز یا ماہرین ملکہ جامعات اور ریسرچ و ڈویلپمنٹ کے اداروں میں خدمات دے رہے ہیں اور پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی میں اس سینٹر کا کلیدی کردار ہے۔
اکیڈمی نے وزیر اعلی سندھ کو لکھے گئے خط میں اس امر پر زور دیا کہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا بنیادی حصہ ہے اور اس کی قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اس کے معیارات کے نھیں اور بدعنوان کی راہ کھول دے گی جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے پاس
ایسے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اداروں کو چلانے کا درکار تجربہ نہیں ہے جو منافع یا کسی منفعت کے بغیر تعلیم و تربیت دے رہے ہوں اس لیے ضروری ہے کہ آئی سی سی بی ایس کو جامعہ کراچی کے ماتحت ہی چلایا جائے۔
واضح رہے کہ اس ادارے کو جامعہ کراچی سے علیحدہ کرکے خودمختار حیثیت دینے کا قانونی مسودہ سندھ کابینہ کے گزشتہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا جس کے بعد انجمن اساتذہ جامعہ کراچی، آئی سی سی بی ایس کے ملازمین اور دیگر حلقوں سے اس اقدام کے خلاف مسلسل آواز بلند کی جارہی ہے۔