ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی کی عوام کو بیدار رہنا ہوگا، جماعت اسلامی نے ہزاروں کی تعداد میں عوامی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، ہم لوگوں کی املاک پر قبضے کرنے کی کوششوں پر مزاحمت کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جہالت سب کے لیے پیپلز پارٹی کا تعلیمی منشور ہے، جمہوریت کا راگ الاپنے والی پیپلز پارٹی جمہوریت کی نفی اور آمریت و فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، پہلے صوبائی اسمبلی سے بل پاس کرواکے جامعات کی خود مختاری پر حملہ کیا گیا، اب ICCBS کو جامعہ کراچی سے الگ کر کے صرف طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے بلکہ من پسند افراد کو نوازنے اور چند ڈونرز کی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، 70ء کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے اداروں کو قومیایا لیکن آج پیپلز پارٹی پر اداروں کو پبلک پرائیویٹ پاٹنرشپ کے حوالے کرنے کا جنون سنوار ہے اور تعلیمی اداروں سے جان چھڑا کر نجکاری کے نام پر ان کا سودا کر رہی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ICCBS کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کا بل واپس لیا جائے، 2019ء میں سندھ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد اور 2022ء کے اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ کے تحت تعلیمی اداروں میں فوری طور پر طلبہ یونین کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ جامعہ کراچی کا اپنا ایک قاعدہ ضابطہ ہے، اس کے رولز ریگولیشن موجود ہیں، سینیٹ، سینڈیکیٹ موجود ہے، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری لی جاتی ہے لیکن کسی مشاورتی فورم سے کوئی ڈسکشن کی گئی نہ کوئی بات کرنا گوارہ نہیں کیا، یہ غیر جمہوری طرز عمل ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، پہلے جامعات کی خود مختاری پر حملہ کیا گیا، صوبائی اسمبلی سے بل پاس کروا کے جامعات میں کوئی بھی 19 یا 20 گریڈ کا بیوروکریٹ جس کا تعلیمی یا تحقیقی تجربہ نہ بھی ہو اسے جامعات کا وائس چانسلر بننے کی راہ ہموار کی گئی، عالمی سطح پر ایک باوقار ادارے کو چند لوگوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، یہ ادارہ 1967ء میں مشہور سائنسدان سلیم الزماں صدیقی نے قائم کیا تھا جو آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، پوری دنیا میں ICCBS ایک تسلیم شدہ تحقیقی مرکز کے طور تسلیم کیا جاتا ہے جو کراچی یونیورسٹی کی بھی ایک شناخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلفٹن میں پارکس کی دیواریں گرائی جارہی ہیں اور کہتے ہیں کہ اندر کا منظر نظر آئے اندر تو کچرا کنڈیاں بنی ہوئی ہیں، عمر شریف پارک کی دیواریں بلند کی جارہی ہیں، فٹ سول بنا کر کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر پارکوں پر قبضے کیے جارہے ہیں جبکہ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلشن اقبال میں 2 دن پہلے وکلا کے بھیس میں کچھ عناصر پولیس کے ساتھ آئے اور گھروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی، ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں جماعت اسلامی کے کارکنان اور اہل محلہ کو جن کی مزاحمت کے نتیجے میں وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے، کراچی کی عوام کو بیدار رہنا ہوگا، جماعت اسلامی نے ہزاروں کی تعداد میں عوامی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، ہم لوگوں کی املاک پر قبضے کرنے کی کوششوں پر مزاحمت کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی جامعہ کراچی کرنے کی نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔

اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔

پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویز

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گی

مجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی