سرکاری اشتہارات بطور ہتھیار استعمال کرنا آزادی اظہار کے دعویدار حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، ترجمان جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں جماعت اسلامی سندھ کے ترجمان مجاہد چنا نے کہا کہ کنٹرول پارلمینٹ سے لیکر سیاست و صحافت تک حکومتی اقدامات سے پوری دنیا میں ملک کا عزت وقار مجروح کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (CPNE) کے ایک حالیہ اجلاس میں حکومت کی طرف سے سرکاری اشتہارات کو بطور ہتھیار استعمال کئے جانے پر اظہار تشویش کو ملک میں آزادی صحافت کی دعویدار حکومت کیلئے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں مجاہد چنا نے کہا کہ کنٹرول پارلمینٹ سے لیکر سیاست و صحافت تک حکومتی اقدامات سے پوری دنیا میں ملک کا عزت وقار مجروح کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی چاہئے کہ معاشی ناکامی، سیاسی انارکی اور ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر حکومتی پریس ریلیز پر اکتفا کرنے کی بجائے اصل حقائق سے قوم کو آگاہی دیں۔
مجاہد چنا نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اور کرپشن کے حوالے سے رپورٹ جاری کرکے شہباز حکومت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے قوم پر مسلط حکومت کا پارلیمنٹ کو بے روح، عدلیہ کو کمزور اور سنسرشپ و کنٹرولڈ میڈیا کے باوجود دل نہیں بھر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ملک کا ایک اہم ستون ہے، اس پر قدغن قابل مذمت اور صحافت کی آزادی کے دعویداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجاہد چنا نے نے کہا کہ
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔