جدید ٹیکنالوجی اور روبوٹکس کا شاندار اسکول
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی کے نجی اسکول کو جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور تعلیم کے معیار کی بدولت دنیا کے بہترین اسکولوں میں شمار کیا جا رہا ہے، یہ اسکول 47,600 مربع میٹر پر محیط ہے اور اس کی تعمیر پر تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس اسکول میں طلباء کو مصنوعی ذہانت کی لیبارٹری،روبوٹکس، ای اسپورٹس، آرٹس اور جسمانی کھیلوں کی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ مستقبل کے رہنما بن سکیں۔ اسکول میں تعلیم دینے والے اساتذہ اور رہنماؤں میں صنعتی اور علمی ماہرین شامل ہیں تاکہ طلباء کو عملی اور تخلیقی علوم میں مہارت دی جا سکے۔ اسکول کی سالانہ فیس تقریباً ایک لاکھ سولہ ہزار درہم سے شروع ہوتی ہے اور بتدریج دو لاکھ چھ ہزار درہم تک جاتی ہے۔اسکول میں ایک بلند فٹبال میدان، اولمپک سائز سوئمنگ پول، باسکٹ بال کورٹ، روبوٹکس لیبارٹری،ڈیزائن اسٹوڈیو اور تحقیقاتی مراکز موجود ہیں۔علاوہ ازیں،شمسی توانائی اور جدید پانی کی بچت کے نظام نصب کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔