چاغی :گردی جنگل کیمپ سے تمام 70 ہزار افغان مہاجرین کو افغانستان بھیج دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251201-01-21
چاغی (مانیٹرنگ ڈیسک) ضلعی انتظامیہ چاغی اور دالبندین رائفلز نے گردی جنگل کیمپ میں تمام مہاجرین کورجسٹریشن کے بعد افغانستان روانہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے کیمپ میں خالی ہونے والے گھروں اور دکانوں کو گرانے کا عمل بھی شروع کردیا ہے، اس حوالے سے جاری کی گئی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گردی جنگل کیمپ میں خالی مکانات کی توڑ پھوڑ جاری ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ کیمپ کیافغان مہاجرین کو باقاعدہ دستاویزی کارروائی کے بعد افغانستان واپس روانہ کیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ بلوچستان کے سب سے بڑے افغان مہاجرین کیمپ گردی جنگل کیمپ میں 70ہزار افغان مہاجرین رہائش پذیر تھے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ کے مطابق 26 نومبر سے لجّے افغان مہاجر کیمپ میں کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور تمام کارروائیاں ریاستی پالیسی کے مطابق کی جا رہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ لجّے کیمپ خالی ہونے کے بعد وہاں موجود غیر قانونی ڈھانچوں کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گردی جنگل کیمپ افغان مہاجرین کیمپ میں
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔