ملک کا سب سے بڑا افغان مہاجر کیمپ خالی، گھروں کی مسماری شروع
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
چاغی (نیوزڈیسک): ملک کا سب سے بڑا افغان مہاجرین کیمپ خالی کر دیا گیا، اور گھروں کی مسماری شروع کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور دالبندین رائفل کی کارروائیوں میں چاغی بلوچستان میں گردی جنگل مہاجر کیمپ مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ چاغی اور دالبندین رائفل نے گردی جنگل کیمپ میں تمام مہاجرین کو رجسٹریشن کے بعد افغانستان روانہ کر دیا، مہاجرین کے انخلا کے بعد انتظامیہ نے کیمپ میں خالی گھروں اور دکانوں کو مسمار کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
ایک فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں دیکھا گیا کہ گردی جنگل کیمپ میں خالی مکانات کی توڑ پھوڑ جاری ہے، کیمپ کے تمام افغان مہاجرین کو باقاعدہ دستاویزی کارروائی کے بعد افغانستان واپس روانہ کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں سردی کی شدت میں اضافہ، قلات میں درجہ حرارت منفی 6 ریکارڈ
گردی جنگل کیمپ سب سے بڑا افغان مہاجرین کیمپ تھا جس میں 70 ہزار افغان مہاجرین رہائش پذیر تھے، کیمپ سے تمام 70 ہزار مہاجرین کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے مطابق 26 نومبر 2025 سے لجّے افغان مہاجر کیمپ میں بھی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام کارروائیاں ریاستی پالیسی کے مطابق کی جا رہی ہیں، لجّے کیمپ خالی ہونے کے بعد وہاں موجود غیر قانونی ڈھانچوں کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں