آئی ایم ایف کی رپورٹ موجودہ نظام کیخلاف کھلی چارج شیٹ ہے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے سینئر نائب صدر و سابق رکنِ قومی اسمبلی فہیم خان نے انصاف ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ موجودہ نظام کے خلاف کھلی چارج شیٹ ہے۔ صرف دو سال میں اس نظام نے ملک کی معیشت تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ 5300 ارب روپے کی کرپشن اور ریکوری تو رپورٹ میں دکھا دی گئی لیکن قوم آج تک نہیں جان سکی کہ یہ خطیر رقم آخر گئی کہاں۔ روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کی کرپشن ان جعلی اور مسلط کردہ حکمرانوں کے منہ پر تماچہ ہے۔ فہیم خان نے کہا کہعمران خان کو مزید قید میں رکھنا ملکی مفاد میں نہیں، عمران خان سمیت تمام اسیران کو فوری رہا کیا جائے۔انہوںنے مزید کہاکہ تباہ شدہ معیشت انہیں مسلط کردہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ حکمرانوں کا واحد مقصد کرپشن کرنا اور پھر اسے چھپانے کے لیے پارلیمنٹ اداروں کا غلط استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدترین مہنگائی، معاشی بدحالی اور بے روزگاری نے نوجوانوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے جبکہ زبردستی مسلط کردہ حکمران اپنی جائدادیں بنانے اور کرپشن کو چھپانے کے لیے آئینی ترامیم لا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔