چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ لندن میں یا نیویارک میں تو مسلمان میئر بن سکتا ہے، بھارت میں 30 کروڑ سے زائد مسلمان ہیں لیکن وہ کسی یونیورسٹی میں اپنا وائس چانسلر نہیں لگا سکتے، بھارت میں یہی حال عیسائیوں اور سکھوں کا بھی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ہم بھارت کے افغان سرزمین استعمال کرنے سے خوفزدہ نہیں۔ ایک بیان میں طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے مذہبی لیڈر مولانا ارشد مدنی کا بیان زیرِ بحث ہے، اللّٰہ کا شکر ہے کہ ہمیں پاکستان جیسی نعمت ملی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت گزشتہ 30 سال سے پاکستان کیخلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، لیکن ہم کسی سے خوفزدہ نہیں۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ لندن میں یا نیویارک میں تو مسلمان میئر بن سکتا ہے، بھارت میں 30 کروڑ سے زائد مسلمان ہیں لیکن وہ کسی یونیورسٹی میں اپنا وائس چانسلر نہیں لگا سکتے، بھارت میں یہی حال عیسائیوں اور سکھوں کا بھی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آج پاکستان کیخلاف افغانستان اپنی دوستی بھارت سے بڑھا رہا ہے، یہ افغانوں کو مبارک ہو، ہم ان سے خوفزدہ نہیں۔ طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا کہ یہ دونوں مل کر بھی پاکستان کا کچھ نہیں کر سکتے، جس طرح 7 مئی کو اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح دی، وہی آگے بھی مدد کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سے خوفزدہ نہیں طاہر اشرفی بھارت میں کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود