عسکری مشقوں کی رپورٹس، بھارتی فوج نے میڈیا پالیسی سخت کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
بھارتی فوج نے ایک اہم ہدایت نامے میں ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ کو میڈیا سے روابط کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
وزارت دفاع کے انٹیگریٹڈ ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ ایک خط حالیہ دنوں میں عسکری مشقوں کے دوران فیلڈ فارمیشنز کی بڑھتی ہوئی میڈیا موجودگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی آرمی چیف کے ’دھرم یُدھ‘ والے بیان پر نئی بحث چھڑ گئی، فوج میں مذہبی رنگ شامل ہونے پر تشویش
خط میں بھارتی فوج کے ایڈجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل وی پی ایس کاشک نے ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار کو میڈیا سے روابط کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ میڈیا سے رابطہ عوامی آگہی اور فوجی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اہم ہے، تاہم اس عمل کو سخت سکیورٹی پروٹوکول کے اندر رہتے ہوئے انجام دینا ناگزیر ہے۔
ایڈجوٹنٹ جنرل نے واضح کیا کہ آپریشنل منصوبے، نئی عسکری حکمتِ عملی، فارمیشنز کی تنظیمِ نو، تعیناتی کے اصول اور مشقوں کے مخصوص مقاصد جیسے پہلو بالکل خفیہ رکھے جائیں۔
مزید پڑھیں: ہندو قوم پرست عناصر کا بڑھتا ہوا اثرونفوذ، بھارت میں فوج کی سیکولر شناخت خطرے میں
لیفٹیننٹ جنرل کاشک نے ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے ماتحت تمام فارمیشنز کو اس سلسلے میں مناسب ہدایات جاری کریں تاکہ حساس معلومات کے کسی بھی ممکنہ اخراج کو روکا جا سکے۔
یہ ہدایت نامہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی فوج مسلسل بڑے پیمانے کی مشقیں کر رہی ہے اور میڈیا کی جانب سے ان کارروائیوں کی کوریج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج حساس معلومات فیلڈ فارمیشنز لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار لیفٹیننٹ جنرل وی پی ایس کاشک میڈیا ویسٹرن کمانڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج حساس معلومات فیلڈ فارمیشنز لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار میڈیا ویسٹرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ویسٹرن کمانڈ بھارتی فوج
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔