صدر سے ملاقات کے بعد بھی ممدانی ٹرمپ کے فاشسٹ ہونے کے بیانیے پر قائم
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
شہر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک فاشسٹ ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ظہران ممدانی نے رواں ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے گرمجوش ملاقات کے باوجود ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔
این بی سی نیوز پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے صدر کے بارے میں کہا کہ یہ وہ بات ہے جو میں نے ماضی میں کہی ہے اور آج بھی کہتا ہوں۔
واضح رہے کہ ممدانی کے یہ تبصرے ٹرمپ سے ملاقات کے دو دن بعد سامنے آئے ہیں۔ ملاقات میں کئی مہینوں کے باہمی الزام تراشیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے شہر کے مستقبل پر تعاون کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے میئر کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ممدانی کو 100 فیصد کمیونسٹ پاگل کہا تھا جبکہ ممدانی نے کہا تھا کہ ٹرمپ جمہوریت پر حملہ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
امریکی ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی معاہدوں پر "انتہائی کم عمر دستخط" کے حامل انتہاء پسند امریکی صدر نے اس بار تہران سے "موجودہ تعطل پر قابو پانے کیلئے" تحریری عزم کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نیز ایک باخبر ذریعے سے نقل کرتے ہوئے امریکی چینل اے بی سی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ تہران اس مرتبہ، "امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے" کے طور پر، مخصوص جوہری رعایتیں تحریری انداز میں پیش کرے۔ اے بی سی کے ذرائع نے تفصیلات فراہم کئے بغیر دعوی کیا کہ ایرانی مذاکراتکاروں نے پہلے زبانی طور پر اس بات کی ضمانت دی تھی کہ تہران بالآخر اپنے "جوہری پروگرام" سے متعلق کچھ شرائط پر راضی ہو جائے گا لیکن امریکی صدر نے جمعے کے روز سیچویشن روم میں ہونے والی ملاقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ وعدے کافی مضبوط نہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹنگ کے سیشن کے دوران کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے قبل، ایران سے ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کی طرح ایران کے لئے گوناگوں شرائط بیان کرتے ہوئے، واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی مراعات کے بارے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ تفصیلات، اور اسی طرح تہران کے لئے مالی مراعات کا تعین بھی بعد میں کیا جائے گا۔ انتہاء پسند امریکی صدر سے نقل کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر، اُنہیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم افزودہ یورینیم کو ضائع کر دیں گے.. اور اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟.. اور یہ بات مذاکرات کے قابل ہے!