ٹرمپ کے بارے میں پہلے جو کچھ کہا اس پر قائم ہوں: ظہران ممدانی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بارے میں وہ اپنے سابقہ مؤقف پر آج بھی قائم ہیں۔
ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی صدر ٹرمپ کو فاشسٹ اور جمہوریت کا مخالف سمجھتے ہیں، تو ظہران ممدانی نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کہی ہوئی باتوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر کے ساتھ حالیہ ملاقات میں نیویارک سٹی کے مسائل پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ امیگریشن، رہائش، معیشت اور شہریوں کی سکیورٹی سمیت تمام اہم امور پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
ظہران ممدانی نے مزید کہا کہ وہ شہر کو محفوظ بنانے کی اپنی پالیسی پر قائم ہیں، تاہم مختلف علاقوں سے امیگریشن حکام کے چھاپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات تشویش کا باعث ہیں۔
واضح رہے کہ ظہران ممدانی نے ریپبلکن اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کو شکست دے کر نیویارک کے میئر کا انتخاب جیتا ہے اور وہ یکم جنوری کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔