دنیا کو متعدد چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں، چینی وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
دنیا کو متعدد چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں، چینی وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 November, 2025 سب نیوز
جوہانسبرگ:چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے جوہانسبرگ میں جی20 رہنماؤں کے بیسویں سربراہی اجلاس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی میٹنگز میں شرکت کی، جہاں انہوں نے “ایک لچکدار دنیا کی تعمیر” اور “تمام لوگوں کے لیے منصفانہ اور مساوی مستقبل” کے موضوعات پر الگ الگ خطاب کیا۔پیر کے روزلی چھیانگ نے کہا کہ اس وقت دنیا کو موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور خوراک سمیت متعدد چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں، جن کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کو یکجہتی کے ساتھ طاقت جمع کرنی ہوگی اور تعاون کے ذریعے مشکلات کو حل کرنا ہوگا۔
جی20 کو زیادہ وسیع بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانا چاہیے، چیلنجز کا مشترکہ طور پر سامنا کرنا چاہیے اور مل کر ترقی کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اس ضمن میں پہلا ہدف یہ کہ ماحولیاتی تحفظ کے تعاون کو مضبوط بنا کر ترقی کی لچک کو بہتر بنایا جائے۔ دوسرا، سبز توانائی کے تعاون کو مضبوط بنا کر منصفانہ منتقلی کو آگے بڑھایا جائے۔ تیسرا، غذائی تحفظ کے تعاون کو مضبوط بنا کر مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی، زرعی سائنس و ٹیکنالوجی کے تعاون کو مضبوط بنا کر خوراک کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جائے۔ چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی غذائی تحفظ کے تعاون کے انیشی ایٹو پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے اور بھوک اور غربت کے خلاف جنگ میں نئی شراکت پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ نئے سائنسی اور صنعتی انقلاب میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، جو دنیا کے لیے غیر معمولی ترقی کے مواقع لے کر آئی ہے، لیکن اس سے نئی عدم مساوات اور ترقی کا فرق بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ جی 20 کو کھلے پن اور باہمی مفادات کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے مواقع سے مشترکہ استفادہ کرنے کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاسکے۔اس ضمن میں پہلا ہدف یہ کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ اور مؤثر انتظام کو آگے بڑھایا جائے۔ دوسرا یہ کہ اہم معدنیات میں باہمی تعاون اور پرامن استعمال کو فروغ دیا جائے، اور تیسرا یہ کہ گلوبل ساؤتھ کی ترقی کو تقویت دی جائے اور عوامی بہبود کی حمایت کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرانسفر کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی درخواست خارج کر دی اسرائیل کی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ،24فلسطینی شہید، پاکستان کی شدید مذمت تیجس طیارہ حادثے نے بھارت کی برآمدات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ٹیرف اور سرمایہ کاری کے ذریعے غیر ملکی زمینوں سے کھربوں ڈالر لے رہے ہیں، ٹرمپ مسلمان نیویارک اور لندن کے میئر بن سکتے ہیں،لیکن بھارت میں کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا، مولانا ارشد مدنی تمام ممالک کو جاپان کے تاریخی جرائم کے ازسرنو احتساب کا حق حاصل ہے، چینی وزیر خارجہ کاپ30 کے اختتام پر موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے ایک جامع معاہدے کی منظوریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چینی وزیر
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں