Daily Sub News:
2026-07-24@02:56:16 GMT

دنیا کو متعدد چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں، چینی وزیر اعظم

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

دنیا کو متعدد چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں، چینی وزیر اعظم

دنیا کو متعدد چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں، چینی وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 November, 2025 سب نیوز

جوہانسبرگ:چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے جوہانسبرگ میں جی20 رہنماؤں کے بیسویں سربراہی اجلاس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی میٹنگز میں شرکت کی، جہاں انہوں نے “ایک لچکدار دنیا کی تعمیر” اور “تمام لوگوں کے لیے منصفانہ اور مساوی مستقبل” کے موضوعات پر الگ الگ خطاب کیا۔پیر کے روزلی چھیانگ نے کہا کہ اس وقت دنیا کو موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور خوراک سمیت متعدد چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں، جن کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کو یکجہتی کے ساتھ طاقت جمع کرنی ہوگی اور تعاون کے ذریعے مشکلات کو حل کرنا ہوگا۔

جی20 کو زیادہ وسیع بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانا چاہیے، چیلنجز کا مشترکہ طور پر سامنا کرنا چاہیے اور مل کر ترقی کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اس ضمن میں پہلا ہدف یہ کہ ماحولیاتی تحفظ کے تعاون کو مضبوط بنا کر ترقی کی لچک کو بہتر بنایا جائے۔ دوسرا، سبز توانائی کے تعاون کو مضبوط بنا کر منصفانہ منتقلی کو آگے بڑھایا جائے۔ تیسرا، غذائی تحفظ کے تعاون کو مضبوط بنا کر مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی، زرعی سائنس و ٹیکنالوجی کے تعاون کو مضبوط بنا کر خوراک کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جائے۔ چین دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی غذائی تحفظ کے تعاون کے انیشی ایٹو پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے اور بھوک اور غربت کے خلاف جنگ میں نئی شراکت پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔

لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ نئے سائنسی اور صنعتی انقلاب میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، جو دنیا کے لیے غیر معمولی ترقی کے مواقع لے کر آئی ہے، لیکن اس سے نئی عدم مساوات اور ترقی کا فرق بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ جی 20 کو کھلے پن اور باہمی مفادات کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے مواقع سے مشترکہ استفادہ کرنے کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاسکے۔اس ضمن میں پہلا ہدف یہ کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ اور مؤثر انتظام کو آگے بڑھایا جائے۔ دوسرا یہ کہ اہم معدنیات میں باہمی تعاون اور پرامن استعمال کو فروغ دیا جائے، اور تیسرا یہ کہ گلوبل ساؤتھ کی ترقی کو تقویت دی جائے اور عوامی بہبود کی حمایت کی جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرانسفر کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی درخواست خارج کر دی اسرائیل کی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ،24فلسطینی شہید، پاکستان کی شدید مذمت تیجس طیارہ حادثے نے بھارت کی برآمدات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ٹیرف اور سرمایہ کاری کے ذریعے غیر ملکی زمینوں سے کھربوں ڈالر لے رہے ہیں، ٹرمپ مسلمان نیویارک اور لندن کے میئر بن سکتے ہیں،لیکن بھارت میں کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا، مولانا ارشد مدنی تمام ممالک کو جاپان کے تاریخی جرائم کے ازسرنو احتساب کا حق حاصل ہے، چینی وزیر خارجہ کاپ30 کے اختتام پر موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے ایک جامع معاہدے کی منظوری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چینی وزیر

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا