اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے ) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صنعتی ترقی کے حوالے سے ورکنگ گروپ کی سفارشات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اپنی زیر صدارت ملکی صنعتی ترقی پر نجی شعبے کی قائم کردہ کمیٹی کے پہلے جائزہ اجلاس میں کیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، جام کمال خان، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، وزیر اعظم کے مشیر محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور ثاقب شیرازی کی قیادت میں صنعتی ورکنگ گروپ میں شامل صنعتکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صنعتی ترقی کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں جن کو وزیر اعظم نے سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں، کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہیں، ملکی صنعتی ترقی کیلئے نجی شعبے کی تجاویز کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کاروباری برادری کی جانب سے صنعتی ترقی کیلئے عرق ریزی سے تیار کی گئی تجاویز کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تجاویز کا بغور جائزہ لینے کے بعد عملدرآمد کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری نے مشکل وقت میں حکومتی پالیسیوں کا ساتھ دیا اور ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے میں معاونت کی۔ اللہ کے فضل و کرم سے ملک کی معاشی سمت بہتر اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہے مگر ملکی ترقی کیلئے ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی۔ اجلاس کو پاکستان کی صنعتی ترقی اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے پالیسی تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس میں ملکی صنعت کی مسابقت میں اضافے کیلئے خطے کے ممالک سے موازنہ بھی پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ان تجاویز کو سراہتے ہوئے معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے سفارشات کے ساتھ ان تجاویز کو ملا کر قومی پالیسی فریم ورک میں شامل کرنے اور متعلقہ حکام کو ان پر عملدرآمد کیلئے تفصیلی جائزے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی اور سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن  نے ملاقات کی جس میں خیبر پی کے سے متعلق امور اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سرحدی امور انجینئر امیر مقام اور وفاقی وزیر پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: صنعتی ترقی کے اجلاس میں اور ملک ترقی کی

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف