صنعتی ترقی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔ ملکی صنعتی ترقی پر قائم نجی شعبے کی کمیٹی کا پہلا جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں صنعتی ترقی کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں، جس پر وزیراعظم نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ ملکی صنعتی ترقی کے لیے نجی شعبے کی تجاویز کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ کاروباری حضرات کی جانب سے صنعتی ترقی کے لیے عرق ریزی سے تجاویز تیار کی گئیں، جو لائق تحسین ہیں۔ ان تجاویز کا بغور مشاہدہ کرکے عملدرآمد کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری برادری نے مشکل وقت میں حکومتی پالیسیوں کا ساتھ دیا اور ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے میں معاونت کی۔ اللہ کے فضل و کرم سے ملک کی معاشی سمت بہتر اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہے، مگر ملکی ترقی کے لیے ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی۔ وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے ملکی صنعتی ترقی پر نجی شعبے کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، جام کمال خان، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے مشیر محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور ثاقب شیرازی کی قیادت میں صنعتی ورکنگ گروپ میں شامل صنعتکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کو پاکستان کی صنعتی ترقی اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے پالیسی تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ملکی صنعت کی مسابقت میں اضافے کے لیے خطے کے ممالک سے موازنہ بھی پیش کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے سفارشات کے ساتھ نئی تجاویز کو سراہتے ہوئے انہیں قومی پالیسی فریم ورک میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صنعتی ترقی کے کی صنعتی ترقی کے لیے
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔