Nawaiwaqt:
2026-07-24@03:37:58 GMT

صنعتی ترقی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، وزیراعظم

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

صنعتی ترقی کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔ ملکی صنعتی ترقی پر قائم نجی شعبے کی کمیٹی کا پہلا جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں صنعتی ترقی کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں، جس پر وزیراعظم نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور آمدن میں اضافہ صنعتی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ ملکی صنعتی ترقی کے لیے نجی شعبے کی تجاویز کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ کاروباری حضرات کی جانب سے صنعتی ترقی کے لیے عرق ریزی سے تجاویز تیار کی گئیں، جو لائق تحسین ہیں۔ ان تجاویز کا بغور مشاہدہ کرکے عملدرآمد کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری برادری نے مشکل وقت میں حکومتی پالیسیوں کا ساتھ دیا اور ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے میں معاونت کی۔ اللہ کے فضل و کرم سے ملک کی معاشی سمت بہتر اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہے، مگر ملکی ترقی کے لیے ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی۔ وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے ملکی صنعتی ترقی پر نجی شعبے کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، جام کمال خان، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے مشیر محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور ثاقب شیرازی کی قیادت میں صنعتی ورکنگ گروپ میں شامل صنعتکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کو پاکستان کی صنعتی ترقی اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے پالیسی تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ملکی صنعت کی مسابقت میں اضافے کے لیے خطے کے ممالک سے موازنہ بھی پیش کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے سفارشات کے ساتھ نئی تجاویز کو سراہتے ہوئے انہیں قومی پالیسی فریم ورک میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: صنعتی ترقی کے کی صنعتی ترقی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار