data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251121-01-9
لاہور (نمائندہ جسارت)ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی پاکستان آصف لقمان قاضی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام میں بیرونی مندوبین کی لاہور آمد شروع ہو چکی ہے۔ اس اجتماع عام میں ایک عالمی سیشن 22 نومبر، بروز ہفتہ، شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک منعقد ہوگا۔ سیشن سے عالمی اسلامی تحریکوں کے ممتاز قائدین خطاب کریں گے۔ عالمی سیشن کا عنوان ’’نظامِ نو ہو رہا ہے پیدا‘‘ ہے۔ جس میں دنیا کے تمام خطوں کی نمائندگی کے ساتھ40 ممالک سے 120 رہنما شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ قطر سے الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے صدر شیخ علی محی الدین قرہ داغی جمعۃ المبارک کے دن خطبہ دیں گے۔ اس عالمی سیشن سے حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے جبکہ ہیئہ علما فلسطینی کے قائد شیخ مروان بھی خطاب کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما پروفیسر غلام محمد صفی کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر اظہارِ خیال کریں گے۔ آصف لقمان قاضی نے کہا کہ اجتماعِ عام کے عالمی سیشن سے خطاب کرنے والے دیگر بین الاقوامی رہنماؤں میں اخوان المسلمون اردن کے بزرگ رہنما شیخ ھمام سعید ، اخوان المسلمون مصر کے نائب مرشد عام ڈاکٹر حلمی الجزار، سعادت پارٹی ترکی کے سربراہ ڈاکٹر فاتح اربکان، برطانیہ کی نومسلم خاتون اور سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ کی بہن نورین بوتھ، برازیل سے صمود فلوٹیلا کے رہنما تھیاگو ایویلا، جنوبی افریقہ سے صمود فلوٹیلا کی شریک رہنما فاطمہ ہینڈرکس، ترک صدر رجب طیب اردوان کی جماعت کے پارلیمنٹرین برہان کایاتُرک، ترکی کی رفاہ پارٹی کے نائب ڈاکٹر دوآن بیکن، تیونس کی تحریک النھضہ کے رہنما ڈاکٹر علی بن عرفہ، الجزائر کی حرکۃ مجتمع المسلم کے نائب صدر ڈاکٹر ناصر حمدادوش، مراکش کی تحریک التوحید والاحسان کے سربراہ ڈاکٹر اوس رمال، سوڈان کی اخوان المسلمون کے سربراہ شیخ عادل علی اللہ، سینیگال کی تحریک عباد الرحمن کے نائب صدر مبنگے تلہ، صومالیہ کے رہنما شیخ محمد شیخ احمد شامل ہیں۔ بوسنیا سے علی عزت بیگووچ کی جماعت کے نمائندے پروفیسر یحییٰ، مقدونیہ سے سعید رمضانی، مونٹی نیگرو سے امام جماعت ڈزتیمو اور دیگر رہنما بھی اسٹیج پر موجود ہوں گے۔ انھوںنے کہا کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر مجیب الرحمن خصوصی خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ فلپائن کی حکمران جماعت مورواسلامک لبریشن فرنٹ کے رہنما اسماعیل ابراہیم، ملائیشیا کے سابق وزیر تعلیم اور حکمران جماعت کے رہنما ڈاکٹر مازلی ملک، ملائیشیا کی حزب اسلامی کے ڈائریکٹر امورِ خارجہ ڈاکٹر خلیل عبدالہادی، کلانتان صوبے کی خاتون وزیر حاجمہ ممتاز، انڈونیشیا کی جسٹس پارٹی کے رہنما جزولی جوینی، عراق کی اخوان المسلمون کے سربراہ شیخ اسماعیل ابواوس بھی خطاب کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ24 نومبر کو ہونے والی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا عنوان ’’ایک نئے عالمی نظام کی تلاش‘‘ ہے۔ اس میں عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین کے علاوہ رفاہ پارٹی ترکی کے سربراہ ڈاکٹر فاتح اربکان، برطانیہ سے ڈاکٹر انس التکریتی، فلسطینی دانشور پروفیسر ڈاکٹر سامی العریان، فلسطینی رفاہی ادارے کے سربراہ منیر سعید، امریکا میں مقیم کشمیری رہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی، برطانیہ میں مقیم کشمیری رہنما مزمل ایوب ٹھاکر، جنوبی افریقہ سے نیلسن مینڈیلا کے ساتھی اور چرچ رہنما ڈاکٹر فرینک چکانے، چین کے مشہور دانشور ڈاکٹر وکٹر گائو، جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا کے پروفیسر جان اسپیٹو، امریکی سماجی کارکن شان کنگ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ دیگر مقررین میں شامل بوسنیا سے پروفیسر یحییٰ ملاحاصلووچ، ملائیشیا کی تحریک اکرام کے سربراہ بدلی شاہ، مصر سے ڈاکٹر محی الدین الزایط، نیپال اور سری لنکا کے نمائندگان بھی اظہار خیال کریں گے۔ مزید برآں برطانیہ کی یو کے اسلامک مشن کے سابق صدر ڈاکٹر زاہد پرویز،اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کے سابق صدر ڈاکٹر محمد یونس، ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نعمان قرطلمش ویڈیو لنک کے ذریعے بھی خطاب کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اجتماعِ عام کا عالمی سیشن اور بین الاقوامی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس دنیا بھر کے ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کرے گا۔ اس میں بعض ممتاز غیر مسلم رہنما بھی مشترکہ ایجنڈے پر شریک ہوں گے۔ کانفرنس موجودہ عالمی نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کو اجاگر کرے گی، بڑی طاقتوں کی منافقانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرے گی اور دنیا میں عدل و انصاف پر مبنی نئے عالمی نظام کی راہ تلاش کرے گی۔ واضح رہے کہ اجتماعِ عام کے عالمی سیشن اور بین الاقوامی گول میز کانفرنس کے انتظامات جماعت اسلامی پاکستان کے ڈائریکٹر آصف لقمان قاضی کی نگرانی میں مکمل کیے گئے ہیں ۔

اجتماع عام میں شرکت کے لیے علامہ یوسف القرضاویؒ کے جانشین اور سربراہ اسلامی یونین آف اسلامی اسکالرز شیخ ڈاکٹر علی محی الدین القَرہ داغی لاہور پہنچ گئے

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اخوان المسلمون جماعت اسلامی خطاب کریں گے رہنما ڈاکٹر عالمی سیشن کے سربراہ نے کہا کہ کے رہنما کی تحریک کے نائب

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے