پی ٹی اے نے وی پی این سروسز کے باضابطہ لائسنسنگ نظام کا آغاز کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پی ٹی اے نے وی پی این سروس لائسنسنگ کا آغاز کردیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروسز کی باضابطہ لائسنسنگ کا آغاز کرتے ہوئے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔
اس اقدام کے تحت پی ٹی اے نے وی پی این فراہم کرنے والی 5 سے زائد کمپنیوں کو کلاس لائسنس جاری کردیے ہیں، جس کے بعد یہ کمپنیاں ملک میں قانونی اور مجاز مقاصد کے لیے وی پی این سروس فراہم کر سکیں گی۔
پی ٹی اے کے اعلامیے کے مطابق اب صارفین اپنی ضرورت کے مطابق رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ کمپنیوں سے وی پی این سروس براہِ راست حاصل کرسکیں گے، جس سے نہ صرف سہولت میں اضافہ ہوگا بلکہ سروس کا معیار بھی بہتر ہوگا۔
حکام کے مطابق لائسنسنگ کا یہ نیا فریم ورک وی پی این کے استعمال کو محفوظ، شفاف اور منظم بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے سائبر سیکیورٹی کے معیار میں بہتری آئے گی، جبکہ کاروباری اداروں اور انٹرنیٹ صارفین کو محفوظ کمیونیکیشن کے قابل اعتماد ذرائع میسر آئیں گے۔
یہ اقدام ریگولیٹری بہتری اور ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی این سروس کے مطابق پی ٹی اے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں