سوڈان میں بے گھر ہونے والے شہری ہزاروں کلومیٹر پیدل چل کر محفوظ علاقوں تک پہنچے، عبدر فتاح البرہان
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
خرطوم: سوڈان کے عبوری خودمختاری کونسل کے چیئرمین عبدر فتاح البرہان نے کہا کہ شمالی دارفور اور کورڈوفان میں پرامیلیٹری فورسز ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے حملوں سے بے گھر ہونے والے شہری ہزاروں کلومیٹر پیدل چل کر محفوظ علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق سوڈان کے عبوری خودمختاری کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ایل فاشر، بارا اور النہود سے جبری طور پر نقل مکانی کرنے والے شہری نیالا یا الفولا یا دارفور کے دیگر علاقوں میں ملیشیا کے کنٹرول میں نہیں گئے بلکہ وہ ریاستی اور سرکاری فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں انہیں سکیورٹی اور بنیادی ضروریات زندگی میسر ہیں۔
خیال رہےکہ گزشتہ ماہ RSF نے شمالی دارفور کے دارالحکومت ایل فاشر پر قبضہ کیا اور مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق قتل و غارت گری کی، جس سے ملک کی جغرافیائی تقسیم کے خدشات پیدا ہوگئے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے مطابق ایل فاشر اور اس کے اطراف سے تقریباً 89,000 افراد نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ ملک بھر میں کل بے گھر ہونے والوں کی تعداد 10 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔
سوڈان کے 18 صوبوں میں سے دارفور کے پانچ میں سے RSF نے قبضہ کر لیا ہے، جب کہ شمالی دارفور کے چند شمالی علاقوں پر ابھی بھی فوجی کنٹرول موجود ہے۔ باقی 13 صوبوں میں سوڈان کی فوج اکثر علاقوں پر حاوی ہے، جس میں دارالحکومت خرطوم بھی شامل ہے۔
15 اپریل 2023 سے سوڈان کی فوج اور RSF کے درمیان جاری جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی ثالثی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل دارفور کے بے گھر
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر