سوڈان میں بے گھر ہونے والے شہری ہزاروں کلومیٹر پیدل چل کر محفوظ علاقوں تک پہنچے، عبدر فتاح البرہان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خرطوم: سوڈان کے عبوری خودمختاری کونسل کے چیئرمین عبدر فتاح البرہان نے کہا کہ شمالی دارفور اور کورڈوفان میں پرامیلیٹری فورسز ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے حملوں سے بے گھر ہونے والے شہری ہزاروں کلومیٹر پیدل چل کر محفوظ علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق سوڈان کے عبوری خودمختاری کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ایل فاشر، بارا اور النہود سے جبری طور پر نقل مکانی کرنے والے شہری نیالا یا الفولا یا دارفور کے دیگر علاقوں میں ملیشیا کے کنٹرول میں نہیں گئے بلکہ وہ ریاستی اور سرکاری فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں انہیں سکیورٹی اور بنیادی ضروریات زندگی میسر ہیں۔
خیال رہےکہ گزشتہ ماہ RSF نے شمالی دارفور کے دارالحکومت ایل فاشر پر قبضہ کیا اور مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق قتل و غارت گری کی، جس سے ملک کی جغرافیائی تقسیم کے خدشات پیدا ہوگئے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے مطابق ایل فاشر اور اس کے اطراف سے تقریباً 89,000 افراد نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ ملک بھر میں کل بے گھر ہونے والوں کی تعداد 10 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔
سوڈان کے 18 صوبوں میں سے دارفور کے پانچ میں سے RSF نے قبضہ کر لیا ہے، جب کہ شمالی دارفور کے چند شمالی علاقوں پر ابھی بھی فوجی کنٹرول موجود ہے۔ باقی 13 صوبوں میں سوڈان کی فوج اکثر علاقوں پر حاوی ہے، جس میں دارالحکومت خرطوم بھی شامل ہے۔
15 اپریل 2023 سے سوڈان کی فوج اور RSF کے درمیان جاری جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی ثالثی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔