Express News:
2026-07-24@05:04:22 GMT

ستائیسویں ترمیم کی منظوری اور عرفان صدیقی کی رحلت

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

وطنِ عزیز میں دہشت گردی اور بدامنی کی بلند ترین لہروں کے درمیان آئینِ پاکستان کی27ویں ترمیم دو تہائی اکثریت سے بالآخر منظور ہو گئی ۔

مخالفت میں صرف 4ووٹ آئے۔ یہ مشکل اور اعصاب شکن معرکہ 12 نومبر 2025 کی شام انجام دیا گیا ۔ مگر کیا اِسے ’’تاریخ ساز‘‘ معرکہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ اپوزیشن (جس میں پی ٹی آئی کے وابستگان کا پلّہ بھاری ہے) نے رائے شماری میں سرے سے حصہ ہی نہ لیا ۔

اِس عدم شرکت کو بہرحال ’’تاریخی‘‘ کہا جا سکے گا ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی اور رکنِ قومی اسمبلی جناب بلاول بھٹو زرداری( جن کی ترمیم سے قبل تقریر خاصی پُر جوش تو تھی مگر معنی و مفہوم سے خالی) نے اپنے خطاب میں بجا کہا کہ ’’ اپوزیشن بھی اگر27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں اپنا حصہ ڈالتی تو مملکتِ خداداد کے استحکام میں یقیناً اضافہ ہوتا‘‘ ۔ یہ افسوسناک مناظر بھی دیکھنے اور سُننے میں آئے کہ ترمیم کی منظوری کے دوران اپوزیشن بنچوں سے شور شرابا اپنے عروج پر رہا ۔بعض لوگ مگر اِس لایعنی شور شرابے کو بھی ’’جمہوریت کا حُسن‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ یعنی بقولِ غالب: ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق / نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی !!

آئین کی 27ویں ترمیم تو منظور ہو گئی ہے ، مگر اِس کا پاکستان کے غریب عوام سے کیا تعلق ہے ؟ وزیر قانون ، جناب اعظم نذیر تارڑ ، نے ترمیم کی منظوری کے بعد مسرت سے مغلوب ہو کر فرمایا:’’ یہ ترمیم بھی قانون و آئین کے شاندار ارتقا ء کی مثال ہے ۔‘‘ اِس مبینہ ارتقا سے کسی کو تا حیات استثنیٰ مل گیا ہے اور کسی کے ہاتھ سے سوموٹو کی طاقت چھین لی گئی ہے ۔

دس ، گیارہ اور بارہ نومبر2025 کے دوران جب ملک بھر میں دہشت گردوں کی پیدا کردہ خونریز اور خوں آشام دہشت گردی اور بدامنی کے کارن نوحہ غم برپا تھا، اسلام آباد میں آئین کی 27ویںترمیم کو ہر حال میں منظور کروانے کی کوششیں جاری تھیں ۔

اُدھر وانا اور اسلام آباد میں محسن کش افغان طالبان اور بھارت کے پروردہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بم دھماکے کررہے تھے اور اِدھر ہمارے اہلِ اقتداراور ہماری مراعات یافتہ اشرافیہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ایوانوں سے 27ویںترمیم کی منظوری کے لیے سر دھڑ کی بازی لگاتے دکھائی دے رہے تھے۔

یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہماری سیاسی و اقتداری اشرافیہ اسلام آباد اور وانا کے خونریز سانحات کے مقابل مذکورہ ترمیم کی منظوری کو زیادہ ترجیح اور اہمیت دے رہی تھی ۔ مذکورہ آئینی ترمیم کی منظوری کا سادہ الفاظ میں خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اشرافیہ ایک بار پھر اپنے مفادات کے تحفظ میں جیت گئی ہے اور ہر روز مہنگائی کی خونخوار چکّی میں پِستے عوام ایک بار پھر مقتدر طبقات کے مقابلے میں ہار گئے ہیں ۔

جس وقت آئین کی ستائیسویں ترمیم منظور کی جارہی تھی، عین اُس وقت افغانستان کے مقتدرمُلّا طالبان کے بدمعاش عناصراور بھارت سے مالی و عسکری امداد لینے والے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد جنوبی وزیرستان کے مشہور علاقے ’’وانا‘‘میں قائم شاندار کیڈٹ کالج پر حملہ کرکے اِسے اپنے محاصرے میں لینے کی ناکام کوشش کررہے تھے ۔ اور اُسی بد قسمت دِن افغان طالبان و بھارت کے زیر سایہ دہشت گردی کرنے والے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے پاکستان کے دارالحکومت، اسلام آباد ، پر خونی حملہ کرکے پاکستان کے درجن بھر بیگناہ شہریوں کو شہید کر ڈالا ۔ اسلام آباد کے خونریز و المناک سانحہ سے ایک روز قبل بھارتی دارالحکومت ، دہلی، میں ایک بم دھماکے میں13افراد مارے گئے ۔

بھارتی ریاست (بہار) کے ریاستی انتخابات کے عین درمیان بھارتی دارالحکومت میں پھٹنے والے بم دھماکے کو بھارت کا ایک اور ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کہا گیا ہے تاکہ مودی کی بی جے پی پاکستان پر الزام عائد کرکے بہار کے ریاستی انتخابات میں حسبِ خواہش فتح حاصل کر سکے ۔

دہلی میں ہونے والے بم دھماکے بارے پہلے بھارتی میڈیا نے کہا کہ یہ کار میں گیس سلنڈر پھٹنے سے دھماکہ ہُوا ہے اور پھر بھارتی گودی میڈیا نے انڈین اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر یہ الزاماتی دعوے کرنا شروع کر دیے کہ اِس بم دھماکے میں پاکستان کا ہاتھ ہے ۔

وطنِ عزیز میں ہر صاحبِ عقل کی زبان پر یہ الفاظ ہیں کہ 10نومبر 2025 کو دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک پھٹنے والے بم کا بدلہ بھارت نے 11نومبر کو اسلام آباد میں لیا ہے اور اِس کے لیے بھارت نے اپنے پالتو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کو استعمال کیا ہے ۔خدا کا شکرہے کہ ہماری جانباز سیکیورٹی فورسز نے ’’وانا‘‘ کے کیڈٹ کالج کو ٹی ٹی پی کے حملہ آور دہشت گردوں سے مکمل طور پر بچا لیا اور کالج مذکور کے 600کے قریب طلبا و اساتذہ اور دیگر عملے کو کوئی نقصان پہنچنے نہ دیا ۔ ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر11 سال قبل پشاور کے ’’آرمی پبلک اسکول‘‘ کے خونی سانحہ کی ذمے دار ٹی ٹی پی کے مجرمان کو بروقت کڑی سزائیں دے دی جاتیں تو 11نومبر2025 کو ’’وانا‘‘ کا سانحہ بھی ظہور پذیر نہ ہوتا ۔

آئین کی 27ویں ترمیم کی منظوری اِس حال میں ہُوئی ہے جب اِنہی لمحات میں معروف نون لیگی سینیٹر ، جناب عرفان صدیقی ، اپنے رَبّ سے جاملے ۔ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کی افسوسناک رحلت کی خبر آئین کی 27ویں ترمیم کے شوریدہ ہنگامے میں دَب کر رہ گئی ۔ صدیقی صاحب مرحوم مگر وقتِ رخصت بھی سینیٹ میں مذکورہ ترمیم کی منظوری میں اپنا ووٹ کاسٹ کر گئے ۔ اللہ غریقِ رحمت کرے ، مرحوم صدیقی صاحب نون لیگ اور جناب نواز شریف کے تا دمِ مرگ نہائت ہی وفادار ساتھی ثابت ہُوئے ۔ صدیقی صاحب مرحوم نے کالج میں اُردو کی پروفیسری سے ریٹائر ہوکر قلم و قرطاس سے ناتہ اُستوار کیا ۔

جنرل ضیاء الحق کے لیے رطب اللسان رہے۔ راقم نے جناب مجیب الرحمن شامی کی زیر قیادت و زیر ادارت ایک ماہنامہ جریدے کا’’ ضیاء الحق شہید نمبر‘‘ شائع کیا تو صدیقی صاحب کا ایک مفصل مضمون شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ اور ہفت روزہ ’’تکبیر‘‘ کے بھی محترم لکھاری تھے۔ جہادِ افغانستان ، مجاہدینِ افغانستان ، مُلا عمر اور مُلا عمر کے طالبان کی جنگی و جہادی کارروائیوں و کارستانیوںکے بے حد معترف تھے۔

اُس وقت ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی تو طالبان کی حامی اور حمائتی تھی ۔ اب تو یہی افغان طالبان بھارت اور اسرائیل کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تیر آزمائی کررہے ہیں اور عملی طور پر احسان فراموش اور محسن کش ثابت ہو رہے ہیں ۔ مرحوم عرفان صدیقی شائد اب اِن احسان فراموش افغان طالبان پر اپنی پرانی تحریروں پر تاسف ہی کرتے ہوں گے ۔ ماضی قریب میں پاکستان کے جس شخص نے بھی افغان طالبان کی خیر خواہی کی، اب اپنے کیے پر نادم ہے۔

 کیسی رواں دواں اور شستہ تحریر تھی اُن کی! پھر وہ قلم و قرطاس کی معرفت ہی (سابق) صدرِ پاکستان، جناب محمد رفیق تارڑ مرحوم، کا قرب حاصل کر گئے ۔ بعد ازاں اُن کے معتمد ترین پریس سیکرٹری بھی رہے ۔ چونکہ صدر محمد رفیق تارڑ صاحب مرحوم نون لیگ اور نواز شریف کے بھی معتمد و محسن تھے ، اس لیے صدر صاحب کی سیکرٹری شپ سے فراغت کے بعد صدیقی صاحب مرحوم، جناب نواز شریف کا گہرا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے میاں صاحب کے تقریر نویس بھی رہے ۔ یہ ناتہ اُنہیں نون لیگ کا سینیٹر بنانے کا ذریعہ بھی بن گیا ۔ بِلا شبہ مرحوم صدیقی صاحب ایک شائستہ اور مہذب انسان و سیاستدان تھے ۔

شاندار شاعر بھی تھے، صاحبِ اسلوب کالم نگار بھی اور صاحبِ تصنیف دانشور بھی ۔ اُن کی شاعری کے کئی مجموعے، اُن کے اخباری کالموں کا ایک مجموعہ اور اُن کے سیاسی تجزیوں پر مشتمل ایک کتاب اُن کے قابلِ ذکر ادبی کارنامے ہیں۔ حرمین شریفین کی محبت میں اُن کی تصنیف دلکشا محبتوں کا احوال سناتی ہے۔ 27ویں ترمیم کے شوروغل میں اُن کی رحلت پر نون لیگ کو جتنے غم و رنج کا اظہار کرنا چاہیے تھا، نہیں کیا جا سکا۔ سچ کہا جاتا ہے کہ سیاست اور اقتدار کے سینے میں دِل نہیں ہوتا ۔ اب جب کہ ستائیسویں ترمیم کا چڑھا طوفان اُتر چکا ہے ، شائد پروفیسر سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم کے ورثا کے ساتھ نون لیگ اور نون لیگی قیادت صحیح معنوں میں مرحوم کی شایانِ شان پُر سا دے سکے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ترمیم کی منظوری ا ئین کی 27ویں افغان طالبان عرفان صدیقی اسلام ا باد پاکستان کے ٹی ٹی پی کے 27ویں ترمیم بم دھماکے نون لیگ ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن