data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ترقی پذیر ممالک کے لیے اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ممالک اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا سکتے ہیں، جدید سڑکیں، ریلویز، بندرگاہیں اور اقتصادی زون قائم کر کے عالمی تجارت سے براہِ راست فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ مقامی صنعتوں کو فعال اور روزگار کے مواقع بڑھاسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کیا۔ وہ گزشتہ روز ہمدرد کارپوریٹ مرکزی دفتر میں اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر کے زیر صدارت منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے اجلاس بعنوان’’عالمی امن، فلسطین کی جنگ بندی، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اْمت مسلمہ کا کردار‘‘ سے خطاب کررہی تھیں۔ اجلاس کی میزبان ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد (ہلال امتیاز)تھیں۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہاکہ مغرب کا اقتصادی ماڈل قرضوں پر چلتا ہے جس سے دنیا بھر میں غربت اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔ غربت کے شکارترقی پذیر ممالک کے لیے چین کایہ پروگرام پیغامِ خوش حالی اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی لیے استعماری ممالک کی جانب سے اس پروگرام کی شد و مد سے مخالفت جاری ہے۔بی آر آئی کے پہلے حصے یعنی پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کے لیے بھارت سمیت دیگر کی جانب سے دہشت گردوں کی ہر قسم کی معاونت کی جارہی ہے۔ پاکستان کو سنجیدگی کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری پروگرام کے فیز IIکو آگے بڑھانا چاہیے۔ اس کے لیے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکورٹی صورت حال بہتر بنانا ہوگی۔ بی آرآئی کو کام یاب بنانے میں ہی پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی بقا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ لسانی اورمذہبی سیاست سے پاکستان کے معاشر ے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ سوچ نوآبادیاتی نظام کی باقیات ہے جس کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔سیاست کے ذریعے اجتماعی مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔قومی اتحاد اور ایماندارانہ سیاست سے ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہوا جاسکتا ہے۔ مغربی استعماری قوتیں آج بھی ترقی پذیر ممالک میں لسانی، نسلی اور دیگر تفریق پیدا کرکے بلاواسطہ قابض ہیں۔ ممالک کو جنگوں اور سرحدی تنازعات کی جانب دھکیل رہے ہیں۔قدرتی وسائل سے مالامال ممالک میں تقسیم کی سیاست کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ علیحدگی پسند جماعتوں کی مالی اور بسااوقات عسکری تعاون بھی دیا جاتا ہے۔ ان مسلح گروہوں کے ذریعے ممالک کو کمزور کرکے قدرتی وسائل و معدنیات اونے پونے داموں خرید کے مہنگے داموں اسلحہ بیچا جاتا ہے۔ لیکن اب مغرب کے دانشور اور عوام بھی فکری طور پر بیدار ہورہے ہیں۔جس طرح اْنہوں نے فلسطین کے حق میں بڑے اجتماع کیے وہ یقیناً ایک بڑی مثبت تبدیلی ہے۔ اراکینِ شوریٰ انجینئر انوار الحق صدیقی ، بریگیڈیئر (ر) طارق خلیل، مبشر میر، ظفر اقبال، انجینئر ابن الحسن رضوی، افضل حمید، سینیٹر عبدالحسیب خان، ڈاکٹر امجد جعفری، جسٹس(ر)ضیا پرویز، پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان ، کرنل(ر)مختار احمد بٹ،ڈاکٹر حنا خان، بریگیڈئر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق، پروفیسر ڈاکٹر نسرین افضل، سید مظفر اعجاز ، ڈاکٹر عامر طاسین اور دیگر نے کہا کہ فلسطین اور سوڈان میں ظلم و جبر کے خلاف پاکستان نے اصولی سفارتی موقف اپنایا ہے جس کی زیادہ تر ممالک کی تائیدبھی حاصل رہی۔ کشمیر میں مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر اور افواج پاکستان کی بہترین عسکری حکمت عملی کی بدولت اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ترقی پذیر ممالک کے لیے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس