میری بات/روہیل اکبر
بچپن کسی بھی انسان کا ہو وہ ناقابل فراموش ہوتا ہے، جوں جوں انسان زندگی کی منزلیں طے کرتااور بچپن سے دور ہوتا جاتا ہے تو اتنی ہی شدت سے بچپن یاد آتا ہے۔ گلی ،محلہ ،یار دوست اور شرارتیں کچھ بھی تو نہیں بدلتا ۔سب کچھ جوں کا توں ہی نظر آتا ہے جب کبھی انسان خیالوں میں اپنے لڑکپن کی طرف لوٹتا ہے۔ انسان بڑھاپے کو پہنچ جائے تو کہتے ہیں کہ وہ پھر سے بچہ بن جاتا ہے۔ شائد اسی لیے کہ وہ اکثر اپنے بچپن کو یاد کرتا رہتا ہے خاص کر اپنے بچوں کے بچوں کے ساتھ ہر وقت گزرے ہوئے اپنے بچپن کے قصے کہانیاں ضرور سناتا ہے اور یہ بچپن ہی ہوتا ہے جو انسان کو بڑھاپے میں بھی معصوم بچہ بنائے رکھتا ہے۔
بچپن ہر انسان کا یاد گار ہوتا ہے خاص کر ایسے انسان کا جو غربت کی لکیر سے اوپر آیا ہوا اور پھر دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان بنالے ۔ایسے شخص کا بچپن اسے ہمیشہ یاد رہتا ہے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج دنیا کی نامورشخصیات کا بچپن پاکستان میں گزرااور اس کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ان یادگار جگہوں کو محفوظ نہیں بنا سکے۔ چند دن قبل میرے ایک بھائیوں جیسے دوست نے فون کیا کہ ابھی ہم نے اسلام آباد نکلنا ہے اور رات کو واپسی ہو جائیگی اور پھر ٹھیک ایک گھنٹے بعد میں اور میرا دوست اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھے۔ دوست کا نام اس لیے نہیں لکھوں گا کہ وہ آرٹ لور ہے اورتقریبا سبھی اسے جانتے ہیں پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی فن و ثقافت سے گہری دوستی اور دلچسپی رکھتا ہے تووہ یہی شخص ہوگا لیکن بدقسمتی ہے کہ اسے جان بوجھ کر کھڈے لائن لگا رکھا ہے تاکہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے وژن کو پرموٹ نہ کرسکے ۔خیر یہ ہر ادارے میں ہورہا ہے اور ہوتا آیا ہے کہ کام کرنے والے کو ہمیشہ رگڑا ہی لگایا جاتا ہے۔ جبکہ نکمے ،نااہل ،کام چور اور میرٹ سے ہٹ کر ترقیاں پانے والوں کو نوازا جاتا ہے۔
ہم لوگ صبح تقریبا11بجے لاہور سے اسلام آباد کی طرف نکلے اور وقت پر وہاں پہنچ گئے جہاں جانا تھا فارغ ہوئے تو واپسی کی بجائے دوست نے پشاور کا پروگرام بنا لیا ۔وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ یوسف خان صاحب (دلیپ کمار ) کا گھر دیکھنا ہے جو میری سب سے بڑی حسرت اور تمنا ہے جو اپنے فن کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک الگ ہی پہچان بنا گیا ۔خیر ہم اسلام آباد سے پشاور کی طرف چل پڑے اور جب تک پشاور نہیں آیا اس وقت تک ہم دلیپ کمار صاحب کی ہی باتے کرتے رہے ۔میں حیران تھا کہ میرے دوست کو دلیپ کمار صاحب کی پچپن سے لیکردنیا سے رخصت ہونے تک کی پوری کہانی یاد تھی بلکہ دلیپ کمار صاحب نے اپنے مکان ،گلی اور محلے کے بارے میں جو جو لکھا اور کہا ہوا تھا وہ بھی اسے یاد تھا ۔اسلام آباد سے پشاور تک کا سفر دلیپ کمار صاحب کی باتوں میں ہی گزرا۔ موٹر وے سے اترتے ہی ہم نے قصہ خوانی بازار کا پوچھنا شروع کردیا کیونکہ دلیپ کمار صاحب کی رہائش اسی بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں تھی۔ پشاور کی قدیم گلیوں میں واقع قصہ خوانی بازار آج بھی صدیوں کی داستانیں اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے۔ یہی وہ تاریخی مقام ہے جہاں کبھی ہر شام داستان گو اپنے لب و لہجے سے سننے والوں کو ماضی کے رنگوں میں لے جاتے تھے۔ انہی گلیوں میں ایک گھر ایسا بھی ہے جو کبھی روشنیوں، قہقہوں اور محبتوں سے جگمگاتا تھا۔ یہ گھر ہے برصغیر کے عظیم اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار کا وہ شخص جسے دنیا نے جذبات کی ترجمانی کا بادشاہ قرار دیا۔ دلیپ کمار کا تعلق صرف فلم انڈسٹری سے نہیں، بلکہ ایک پورے عہد سے تھا ۔انہوں نے اداکاری کو ایک نئی زبان دی ”مغلِ اعظم” کے شہزادہ سلیم سے لے کر ”دیدار” ”داغ” اور ”دیوداس” تک ہر کردار میں ان کی آنکھوں سے نکلنے والا درد دلوں میں اُتر جاتا تھا۔ دلیپ صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اداکاری نہیں کرتے تھے بلکہ وہ خود کردار بن جاتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک شائستگی ایک وقار اور ایک گہری تہذیبی جھلک تھی جو آج کے زمانے میں کم ہی نظر آتی ہے۔ لیکن افسوس جس شخص نے برصغیر کے کروڑوں دلوں میں محبت جگائی اس کا پشاور والا آبائی گھر آج زبوں حالی کا شکار ہے ۔کبھی لکڑی کے دروازوں سے مزین سرخ اینٹوں سے بنا وہ خوبصورت مکان اب ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کرتا ہے۔ چھتیں گر چکی ہیں ۔دیواروں سے پلستر جھڑ رہا ہے اور وہ گلی جو کبھی دلیپ کمار کے بچپن کی ہنسیوں سے گونجتی تھی۔ اب مشینوں کی کھڑکھڑاہت سے کانپتی ہے۔ حکومت پاکستان نے کئی بار وعدے کیے کہ دلیپ کمار کے گھر کو قومی ورثہ قرار دے کر اسے بحال کیا جائے گا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وعدے محض بیانات کی حد تک رہے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی سوائے نیا تالا لگانے کے اور کچھ نہیں کیا ۔پشاور کے لوگ آج بھی فخر سے کہتے ہیں کہ ”یہ دلیپ کمار کا شہر ہے” مگر جب کوئی سیاح ان کے گھر کا رخ کرتا ہے تو منظر دل توڑ دیتا ہے ۔شاید ہماری اجتماعی بے حسی ہی ہے کہ ہم اپنی ثقافت اپنے ورثے اور اپنے ہیروز کی نشانیوں کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔دلیپ کمار نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں پاکستان کے لیے ہمیشہ محبت کا اظہار کیا ،وہ کہا کرتے تھے ”میرا بچپن پشاور کی گلیوں میں گزرا وہ مٹی آج بھی میری روح میں بسی ہوئی ہے۔ کاش ہم ان کے ان جذبات کی لاج رکھتے اور ان کے آبائی گھر کو ویسی ہی عزت دیتے ،جیسی ان کی شخصیت حقدار ہے۔ آج اگر ہم واقعی دلیپ کمار کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو یہ محض تعریفی تقریروں سے ممکن نہیں بلکہ ان کے گھر کو بحال کر کے اسے ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کر کے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ فن، محبت اور تہذیب کبھی مرتے نہیں۔قصہ خوانی بازار میں وہ مکان آج بھی کھڑا ہے مگر وہ دلیپ کمار کی فلموں کی طرح جیتا جاگتا نہیں ۔وہ خاموش ہے جیسے اپنے مکین کی واپسی کا منتظر ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: دلیپ کمار صاحب کی اسلام آباد جاتا ہے ہے اور کی طرف آج بھی
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔