Juraat:
2026-06-03@04:41:02 GMT

دلیپ کمارکا خستہ گھر

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

دلیپ کمارکا خستہ گھر

میری بات/روہیل اکبر

بچپن کسی بھی انسان کا ہو وہ ناقابل فراموش ہوتا ہے، جوں جوں انسان زندگی کی منزلیں طے کرتااور بچپن سے دور ہوتا جاتا ہے تو اتنی ہی شدت سے بچپن یاد آتا ہے۔ گلی ،محلہ ،یار دوست اور شرارتیں کچھ بھی تو نہیں بدلتا ۔سب کچھ جوں کا توں ہی نظر آتا ہے جب کبھی انسان خیالوں میں اپنے لڑکپن کی طرف لوٹتا ہے۔ انسان بڑھاپے کو پہنچ جائے تو کہتے ہیں کہ وہ پھر سے بچہ بن جاتا ہے۔ شائد اسی لیے کہ وہ اکثر اپنے بچپن کو یاد کرتا رہتا ہے خاص کر اپنے بچوں کے بچوں کے ساتھ ہر وقت گزرے ہوئے اپنے بچپن کے قصے کہانیاں ضرور سناتا ہے اور یہ بچپن ہی ہوتا ہے جو انسان کو بڑھاپے میں بھی معصوم بچہ بنائے رکھتا ہے۔
بچپن ہر انسان کا یاد گار ہوتا ہے خاص کر ایسے انسان کا جو غربت کی لکیر سے اوپر آیا ہوا اور پھر دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان بنالے ۔ایسے شخص کا بچپن اسے ہمیشہ یاد رہتا ہے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج دنیا کی نامورشخصیات کا بچپن پاکستان میں گزرااور اس کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ان یادگار جگہوں کو محفوظ نہیں بنا سکے۔ چند دن قبل میرے ایک بھائیوں جیسے دوست نے فون کیا کہ ابھی ہم نے اسلام آباد نکلنا ہے اور رات کو واپسی ہو جائیگی اور پھر ٹھیک ایک گھنٹے بعد میں اور میرا دوست اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھے۔ دوست کا نام اس لیے نہیں لکھوں گا کہ وہ آرٹ لور ہے اورتقریبا سبھی اسے جانتے ہیں پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی فن و ثقافت سے گہری دوستی اور دلچسپی رکھتا ہے تووہ یہی شخص ہوگا لیکن بدقسمتی ہے کہ اسے جان بوجھ کر کھڈے لائن لگا رکھا ہے تاکہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے وژن کو پرموٹ نہ کرسکے ۔خیر یہ ہر ادارے میں ہورہا ہے اور ہوتا آیا ہے کہ کام کرنے والے کو ہمیشہ رگڑا ہی لگایا جاتا ہے۔ جبکہ نکمے ،نااہل ،کام چور اور میرٹ سے ہٹ کر ترقیاں پانے والوں کو نوازا جاتا ہے۔
ہم لوگ صبح تقریبا11بجے لاہور سے اسلام آباد کی طرف نکلے اور وقت پر وہاں پہنچ گئے جہاں جانا تھا فارغ ہوئے تو واپسی کی بجائے دوست نے پشاور کا پروگرام بنا لیا ۔وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ یوسف خان صاحب (دلیپ کمار ) کا گھر دیکھنا ہے جو میری سب سے بڑی حسرت اور تمنا ہے جو اپنے فن کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک الگ ہی پہچان بنا گیا ۔خیر ہم اسلام آباد سے پشاور کی طرف چل پڑے اور جب تک پشاور نہیں آیا اس وقت تک ہم دلیپ کمار صاحب کی ہی باتے کرتے رہے ۔میں حیران تھا کہ میرے دوست کو دلیپ کمار صاحب کی پچپن سے لیکردنیا سے رخصت ہونے تک کی پوری کہانی یاد تھی بلکہ دلیپ کمار صاحب نے اپنے مکان ،گلی اور محلے کے بارے میں جو جو لکھا اور کہا ہوا تھا وہ بھی اسے یاد تھا ۔اسلام آباد سے پشاور تک کا سفر دلیپ کمار صاحب کی باتوں میں ہی گزرا۔ موٹر وے سے اترتے ہی ہم نے قصہ خوانی بازار کا پوچھنا شروع کردیا کیونکہ دلیپ کمار صاحب کی رہائش اسی بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں تھی۔ پشاور کی قدیم گلیوں میں واقع قصہ خوانی بازار آج بھی صدیوں کی داستانیں اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے۔ یہی وہ تاریخی مقام ہے جہاں کبھی ہر شام داستان گو اپنے لب و لہجے سے سننے والوں کو ماضی کے رنگوں میں لے جاتے تھے۔ انہی گلیوں میں ایک گھر ایسا بھی ہے جو کبھی روشنیوں، قہقہوں اور محبتوں سے جگمگاتا تھا۔ یہ گھر ہے برصغیر کے عظیم اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار کا وہ شخص جسے دنیا نے جذبات کی ترجمانی کا بادشاہ قرار دیا۔ دلیپ کمار کا تعلق صرف فلم انڈسٹری سے نہیں، بلکہ ایک پورے عہد سے تھا ۔انہوں نے اداکاری کو ایک نئی زبان دی ”مغلِ اعظم” کے شہزادہ سلیم سے لے کر ”دیدار” ”داغ” اور ”دیوداس” تک ہر کردار میں ان کی آنکھوں سے نکلنے والا درد دلوں میں اُتر جاتا تھا۔ دلیپ صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اداکاری نہیں کرتے تھے بلکہ وہ خود کردار بن جاتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک شائستگی ایک وقار اور ایک گہری تہذیبی جھلک تھی جو آج کے زمانے میں کم ہی نظر آتی ہے۔ لیکن افسوس جس شخص نے برصغیر کے کروڑوں دلوں میں محبت جگائی اس کا پشاور والا آبائی گھر آج زبوں حالی کا شکار ہے ۔کبھی لکڑی کے دروازوں سے مزین سرخ اینٹوں سے بنا وہ خوبصورت مکان اب ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کرتا ہے۔ چھتیں گر چکی ہیں ۔دیواروں سے پلستر جھڑ رہا ہے اور وہ گلی جو کبھی دلیپ کمار کے بچپن کی ہنسیوں سے گونجتی تھی۔ اب مشینوں کی کھڑکھڑاہت سے کانپتی ہے۔ حکومت پاکستان نے کئی بار وعدے کیے کہ دلیپ کمار کے گھر کو قومی ورثہ قرار دے کر اسے بحال کیا جائے گا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وعدے محض بیانات کی حد تک رہے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی سوائے نیا تالا لگانے کے اور کچھ نہیں کیا ۔پشاور کے لوگ آج بھی فخر سے کہتے ہیں کہ ”یہ دلیپ کمار کا شہر ہے” مگر جب کوئی سیاح ان کے گھر کا رخ کرتا ہے تو منظر دل توڑ دیتا ہے ۔شاید ہماری اجتماعی بے حسی ہی ہے کہ ہم اپنی ثقافت اپنے ورثے اور اپنے ہیروز کی نشانیوں کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔دلیپ کمار نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں پاکستان کے لیے ہمیشہ محبت کا اظہار کیا ،وہ کہا کرتے تھے ”میرا بچپن پشاور کی گلیوں میں گزرا وہ مٹی آج بھی میری روح میں بسی ہوئی ہے۔ کاش ہم ان کے ان جذبات کی لاج رکھتے اور ان کے آبائی گھر کو ویسی ہی عزت دیتے ،جیسی ان کی شخصیت حقدار ہے۔ آج اگر ہم واقعی دلیپ کمار کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو یہ محض تعریفی تقریروں سے ممکن نہیں بلکہ ان کے گھر کو بحال کر کے اسے ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کر کے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ فن، محبت اور تہذیب کبھی مرتے نہیں۔قصہ خوانی بازار میں وہ مکان آج بھی کھڑا ہے مگر وہ دلیپ کمار کی فلموں کی طرح جیتا جاگتا نہیں ۔وہ خاموش ہے جیسے اپنے مکین کی واپسی کا منتظر ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: دلیپ کمار صاحب کی اسلام آباد جاتا ہے ہے اور کی طرف آج بھی

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق