Express News:
2026-07-24@11:46:44 GMT

آئینی دور

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

حضرت عمر فاروقؓ کا عہد خلافت تاریخ اسلام کا سنہری دور حکومت کہلاتا ہے۔ انھوں نے جہاں ایک طرف فتوحات حاصل کر کے اسلامی سلطنت کا دائرہ وسیع کیا، وہیں انھوں نے ایسا نظام حکومت تشکیل دیا جہاں ہر فرد کے حقوق کو تحفظ حاصل تھا۔ عدل، انصاف اور احتساب کا ایسا مثالی نظام بنایا کہ آج تک اس کی کوئی نظیر دنیا کا کوئی دوسرا حکمران پیش نہ کر سکا۔

دنیا بھر کے مسلم و غیر مسلم ہر دو مورخین نے حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ایک یہودی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب "The Hundred" میں تاریخ انسانی کی 100 عظیم ترین شخصیات میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمات کو نمایاں طور پر لکھا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں ہر فرد کو تنقید اور طلب حقوق کی آزادی دے رکھی تھی۔ ایک دفعہ آپؓ نے ممبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ’’ لوگو! اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں، تو کیا کرو گے؟‘‘ یہ سنتے ہی ایک شخص نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور کہا ’’ تمہارا سر اڑا دوں گا۔‘‘ آپؓ نے آزمانے کے لیے اسے ڈانٹ کر کہا’’ تو امیرالمومنین کی شان میں گستاخی کر رہا ہے۔ تجھے پتا نہیں کہ تُو کس سے بات کر رہا ہے؟‘‘ اس شخص نے اسی جرأت سے جواب دیا’’ ہاں، ہاں میں آپ سے مخاطب ہوں۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ’’رب کا شکر ہے کہ اس قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو وہ مجھے سیدھا کر دیں گے۔‘‘

تاریخ کے اوراق میں ایک مشہور واقعہ ملتا ہے کہ ایک دفعہ آپ مسلمانوں سے خطاب کرنے اٹھے تو ایک بدو کھڑا ہوا اور کہا کہ ’’ میں نہ آپؓ کی بات سنتا ہوں اور نہ ہی اطاعت کرتا ہوں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے استفسار کیا کہ ’’کیوں؟‘‘ بدو بولا ’’ یمن سے جو چادریں آئی تھیں اس میں سے ایک ایک چادر سب کے حصے میں آئی تھی، اور اس ایک چادر سے آپؓ کی قمیص نہیں بن سکتی، مگر آپؓ نے اس چادر کی قمیص زیب دن کی ہوئی ہے، یقینا آپ نے اپنے حصے سے زائد کپڑا لیا ہے‘‘ اس کا جواب میں حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ’’ اس کا جواب میرا بیٹا دے گا۔‘‘ آپؓ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کھڑے ہو کر جواب دیا کہ ’’واقعی میرے ابا جان کی قمیص ایک چادر میں نہیں بنتی تھی، (آپؓ خاصے قدآور تھے) میں نے اپنے حصے کی چادر انھیں دی تھی، اس طرح ان کی قمیص بنی۔‘‘

ہمارے دین اسلام کی آفاقی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ حاکم وقت اپنی رعایا کے حقوق کا محافظ ہے، ان کی ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرنا حکمرانوں کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول صادق ہے کہ’’ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کُتا بھی مرا تو عمرؓ سے اس کا سوال کیا جائے گا۔‘‘ گویا اسلام میں کسی حکمران اور صاحب اختیار حکومتی عہدیدار کو کسی بھی حوالے سے کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

بعینہ ایک عام شخص بھی حکمرانوں سے باز پرس کر سکتا ہے اور اس کے قول و عمل کے حوالے سے سوال اٹھا سکتا ہے اور حکمران کو ہر صورت جواب دینا پڑے گا۔ قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں قائد اعظم کے متعدد فرمودات ریکارڈ پر ہیں کہ جب بھی ان سے سوال کیا جاتا کہ پاکستان کا دستور کیا ہوگا تو آپ کا جواب ہوتا کہ ’’ میں کون ہوتا ہوں پاکستان کا دستور بنانے والا، ہمارا دستور تو 13 سو سال پہلے بن گیا، پاکستان میں جو بھی آئین ہوگا قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔‘‘ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں قرآن و سنت کے دستور کی عملی شکل نافذ کردی ہے جس کے مطابق کسی سرکاری عمال کو اپنے ہر عمل کا عوام کو جواب دینا ہوگا، کوئی سرکاری اہلکار قانون سے مبرا نہیں، بلا تفریق سب کا احتساب قرآن و سنت کی روح کے مطابق لازم و ملزوم ہے اور سب کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے کوئی قانون سے بالا نہیں اور کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کا عہد خلافت ہمارے لیے مثال، قرآن و سنت ہمارا دستور اور قائد اعظم کے فرمودات ہمارے پیش نظر لیکن قائد کے پاکستان میں آج کے زعما بڑی شدت سے تاحیات اپنے اعمال کی گرفت سے استثنیٰ کے طلب گار ہیں۔ کیا انھیں نبی کریمؐ کی وہ حدیث یاد نہیں کہ ’’ تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ جب ان کا کوئی امیر چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔‘‘

لگتا ہے اکابرین حکومت اسلام کی آفاقی تعلیمات بھول گئے، قرآن و سنت کو مساجد و مدرسوں تک محدود کردیا اور قائد اعظم کے فرمودات کو بالائے طاق رکھ دیا۔ اسی جلد بازی میں بحث و مباحثہ کے بغیر ایوان بالا سے 27 ویں آئینی ترمیم جبری پاس کروا لی، اب قومی اسمبلی سے بھی منظور کروا لی گئی ہے۔ اپوزیشن کا احتجاج بے معنی اور بعض آئینی و قانونی ماہرین کے اعتراضات اور سوالات تشنہ تعبیر رہیں گے۔

78 سالوں سے وطن عزیز میں یہی کچھ ہو رہا ہے، طاقتوروں نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد و مفادات کے تحفظ کے لیے آئین میں من مانی ترامیم کیں اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا، کہا جا رہا ہے کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی مجروح ہو گئی ہے۔ آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ کی حیثیت ثانوی ہو جائے گی۔ تاحیات استثنیٰ سے احتساب کا تصور ختم ہو جائے گا۔ کیا آنے والے حکمران اسے قبول کر لیں گے یا ایک نیا آئینی پنڈورا باکس کھل جائے گا؟ کاش کہ ہمارے حکمران اسلام کی آفاقی تعلیمات کو سمجھ لیتے اور حضرت عمرؓ کے عہد زریں سے رہنمائی حاصل کر لیتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حضرت عمر فاروق کی قمیص نے اپنے رہا ہے

پڑھیں:

ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا