27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس محسن اختر کیانی کے دلچسپ ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس محسن اختر کیانی نے دلچسپ ریمارکس دیے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 27ویں ترمیم ہو رہی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل بھی اپنے اختیارات میں اضافہ کروا لیتی، اسلامی نظریاتی کونسل بھی تجاویز بھیجوا دیتی، اختیارات بڑھ جاتے۔
عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ بھی اسی ماہ کر سکتے ہیں، ترمیم کے بعد تو شاید یہ اختیار بھی نہ رہے۔
عدالت نے نمائندہ نظریاتی کونسل سے استفسار کیا کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل ایک ایڈوائزری باڈی ہے؟ رائے دینے کے لیے کس نے آپ کو اپروچ کیا؟
جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ اگر ہم کچھ کریں گے تو ملک میں ایک نیا ٹرینڈ شروع ہو جائے گا، پارلیمان کے پاس ایک طاقت ہے اور وہ خودمختار ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نظریاتی کونسل مقننہ، صدر یا صوبے کے گورنر کے علاوہ کس کو رائے دے سکتی ہے؟ کونسل حکام نے جواب دیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے ہی جواب دینا ہے، وہ تعینات ہوں گے تو دیں گے، نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی تعیناتی ابھی نہیں ہوئی، وقت دیا جائے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا نئی تعیناتی کی سفارش بھیج دی گئی ہے؟ کونسل حکام نے کہا کہ جی سفارش گئی ہوئی ہے، امید ہے جلد تعیناتی ہو جائے گی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے معطل کرنے کی درخواست گزار کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے نامکمل جواب عدالت میں جمع کرایا جس پر عدالت نے مکمل جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالت عالیہ نے اسلامی نظریاتی کونسل کو دائرہ اختیار سے متعلق مطمئن کرنے کی ہدایت اور سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالت نے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔