دہشتگردی قبول نہیں، پہلے کی طرح آپ کو منہ توڑ جواب ملے گا، وزیراعظم کا افغانستان کو واضح پیغام
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی ہو رہی ہے جو ہمیں قبول نہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وانا میں ایک بار پھر دہشتگردی کا بازار گرم کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ان دہشتگردوں میں افغان بھی شامل تھے، ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو، افغانستان اس بات پر آئے اور امن میں شریک ہو۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا اور اب بھی دیں گے، پہلے جب افغانستان سے پاکستان پر حملہ ہوا تو افغان وزیر خارجہ بھارت میں تھے۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان سے ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے ساتھ جھوٹے وعدے کیے جائیں اور دوسری طرف دہشتگردوں کی حمایت جاری رکھی جائے۔
وزیراعظم نے کہاکہ افغانستان کی جانب سے ہمیں مہمان نوازی کا جو صلہ دیا جارہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے، آئیں صدق دل کے ساتھ بیٹھیں، دہشتگردوں کو لگام دیں ہم پوری طرح آپ کے ساتھ چلیں گے۔
انہوں نے کہاکہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ملک میں ہونے والی دہشتگردی میں ہمارے مخالفین شامل نہیں، یہ بات رات کو دن کہنے کے مترادف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغانستان دہشتگردی شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان دہشتگردی شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز انہوں نے کہاکہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔