کیا پاک افغان ایک اور لڑائی ناگزیر ہے، بھارت افغانستان تزویراتی الحاق کیا رنگ دکھائے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
استنبول مذاکرات کی ناکامی کے بعد افغان وزرا کے رعونت آمیز بیانات کے بعد اب یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک بھر 11 اور 12 اکتوبر جیسی ایک اور فوجی کشیدگی کے دہانے پر ہیں، لیکن اس وقت موجود صورتحال کا خوفناک پہلو بھارت اور افغانستان کا دہشتگردی پر اشتراک ہے۔
ایک طرف افغان وزرا کے اسلام آباد پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد اسلام آباد میں دھماکا ہوا۔ دوسری طرف دہلی دھماکے کے 13 گھنٹے کے اندر اسلام آباد میں دھماکا بھارت اور افغانستان کے تزویراتی الحاق کی کھلی دلیل ہے جب بھارت افغان طالبان حکومت کو اسرائیلی ساختہ ڈرون ٹیکنالوجی بھی مہیا کررہا ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وانا میں ہونے والا ٹی ٹی پی دہشتگرد حملہ اور اسلام آباد کچہری میں ہونے والے خود کش حملے میں جہاں افغانستان کے ملوث ہونے ثبوت ملے ہیں وہ اِس بات کی مکمل نفی کرتے ہیں کہ افغانستان دہشتگردوں کی پشت پناہی نہیں کرتا۔ اِسلام آباد میں ہونے والے بم دھماکے کی ذِمے داری ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپ جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔
’مذاکرات کی ناکامی اور طالبان کی الزام تراشی‘استنبول مذاکرات کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی تو قائم ہے لیکن افغانستان کی جانب سے اشتعال انگیزی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
گزشتہ روز افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے استنبول مذاکرات کے حوالے سے کابل میں غیر ملکی سفیروں کے لیے ایک بریفنگ کا اہتمام کیا تو اُس میں پاکستان کو مدعو نہیں کیا گیا۔
افغان نائب وزیرِخارجہ ڈاکٹر نعیم نے کہاکہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کرانے والے ثالثوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور جب بھی پاکستان حقیقت پر مبنی مطالبات کرے گا ہم مسئلے کو بات چیت اور سفارتی کاری کے ذریعے سے حل کر لیں گے۔
افغان قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے مذاکرات کی ناکامی کے لیے پاکستان کو ذمے دار قرار دیا۔
’مذاکرات کی ناکامی کے لیے افغان ہٹ دھرمی ذمے دار ہے‘دوسری طرف 9 نومبر کو پاکستانی دفتر خارجہ نے جو بیان جاری کیا اس کے مطابق استنبول مذاکرات کی ناکامی کی ذمے داری افغانستان کی ہٹ دھرمی ہے۔ افغان مذاکرات کار عملی اقدامات کے بجائے باتوں اور بحث کو طول دیتے رہے اور بحث کو غیر ضروری طور پر اُلجھانے کی کوشش کرتے رہے۔
عام تاثر یہی ہے کہ پاک بھارت جنگ اِسی مہینے ہو جائے گی: بریگیڈیئر (ر) آصف ہاروندفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) آصف ہارون نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وانا اور اِسلام آباد میں ہونے والے حملے الگ الگ نہیں بلکہ اِن کی کڑیاں بھارت اور افغانستان کے تزویراتی الحاق کے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کے حملے دونوں کی مشترکہ حکمتِ عملی سے ہوتے ہیں۔ ان دونوں ملکوں نے پاکستان سے جنگ میں شکست کھائی ہے اور دونوں اپنے زخم چاٹ رہے ہیں اور اپنی ہزیمت مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’فی الحال بھارت خفیہ آپریشنز کے ذریعے سے پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کروا رہا ہے اور اس کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ پاکستان کو مشرقی، مغربی اور داخلی تینوں محاذوں پر انگیج کیا جائے۔ بھارتی قیادت نے مئی میں پاکستان پر اپنی بری اور فضائی فوج کا استعمال کیا تھا لیکن اِس بار وہ اپنی بحریہ کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ پاکستان کے جنوب سے صحرائی سمت سے حملہ آور ہونے کا ارادہ ظاہر کر چُکے ہں۔‘
انہوں نے کہاکہ اس وقت سرینگر میں بھارت نے اپنی فضائی قوت جمع کرلی ہے، رفال طیارے وہاں لگا دیے ہیں اور وہاں جنگی مشقیں کر رہا ہے۔ دوسری طرف افغانستان اِس وقت بھارت کا سب سے بڑا مہرہ بنا ہوا ہے۔
’گزشتہ اشرف غنی حکومت کی طرز پر بھارت ایک بار پھر افغانستان کے اندر اپنی موجودگی میں اِضافہ کرنے جا رہا ہے اور پہلے کی طرح اپنے 8 قونصلیٹ کھولے گا اور جس طرح سے پہلے جلال آباد میں ٹریننگ کیمپ قائم تھا ویسے ہی دوبارہ قائم کیا جائے گا۔‘
آصف ہارون نے کہاکہ پاکستان پر افغانستان کی مدد سے ہونے والے دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی بھارت میں ہوتی ہے۔ اسے بھارت کی جنگی حکمتِ عملی کہا جا سکتا ہے اور اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بھارت طالبان کو اسرائیلی ساختہ ڈرونز مہیا کررہا ہے۔ وانا میں دراصل بھارت نے ٹی ٹی پی کے ذریعے سے ایک اور اے پی ایس کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ناکام بنا دیا گیا۔
’استنبول میں مذاکرات چل رہے تھے اور ایک افغان وزیر اسلام آباد پر حملے کی دھمکی دے رہا تھا، اب اِس میں کوئی شک شبہ نہیں کہ وہ اِسلام آباد میں دہشتگرد حملے کی دھمکی دے رہے تھے جو آج اُنہوں نے کیا۔‘
افغانستان نے پاکستان کو ایسی کارروائی کی دھمکی دی تھی، مائیکل کوگلمینواشنگٹن ڈی سی میں وِلسن سینٹر سے منسلک جنوب ایشائی اُمور کے ماہر مائیکل کولگلمین نے صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد میں خود کش دھماکا ہمیں افغان طالبان رجیم کی جانب سے اِسلام آباد پر حملے کی دھمکیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے فضائی حملوں کا جواب دہشتگرد عناصر کے ساتھ اپنے گٹھ جوڑ کے ذریعے حملے کی صورت میں دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ دہلی لال قلعے پر حملے کے 13 گھنٹوں کے اندر اندر اِسلام آباد پر حملہ ہوگیا جس میں 12 لوگ شہید ہو گئے۔ اِن حملوں کی ٹائمنگ پر بحث ہوگی کیونکہ دہلی اور اِسلام آباد میں اس طرح کے بڑے حملے مستقبل قریب میں نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے حملے کو خود کش دہشتگرد حملہ قرار دیا ہے جبکہ بھارت نے دہلی حملے کے بارے میں ایسا نہیں کہا لیکن وہ اس حملے کی تحقیقات انسدادِ دہشگردی قوانین کے تحت ہی کررہے ہیں۔
پاکستان نے مئی میں اپنی حیثیت بتا دی اب وہ یہ جنگ بھی جیت جائے گا، محمود جان بابرافغان امور پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی محمود جان بابر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ صورتحال دو ملکوں تک محدود نہیں، اصل بات یہ ہے کہ اس وقت اس ریجن میں پاکستان اور ہمارے دوستوں کے دشمن ہر صورت چاہتے ہیں کہ ان کو کسی بھی طریقے سے ناکام کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ صرف پاکستان کے لیے مسئلہ نہیں بنا بلکہ پاکستان کے علاوہ اس کے دوستوں کے لیے بھی مسئلہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محمود جان بابر نے کہاکہ اس وقت افغانستان اور پاکستان کی اگر آپ حالت دیکھیں تو دونوں ملکوں کے مذاکرات کے کافی دور ہو چکے ہیں اور دونوں کے دوست چاہتے ہیں کہ ان کے تعلقات آپس میں بہتر ہوں لیکن لگ نہیں رہا کہ یہ بہتر ہو سکتے ہیں۔
’اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان بڑے بے بس ہیں، ان کا بس نہیں چل رہا، وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ لڑنے والے تمام لوگ بھی خوش رہیں اور ان کے ہمسائے بھی ان سے خوش رہیں، لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ انہوں نے دوحہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم ہر صورت افغانستان کی سرزمین کا استعمال دیگر ممالک کے خلاف روکیں گے۔‘
’طالبان دوحہ میں کیے گئے وعدے پر عملدرآمد کے پابند ہیں‘انہوں نے کہاکہ طالبان اس معاہدے پر عملدرآمد کلے پابند ہیں۔ یہ معاہدہ انہوں نے صرف امریکا کے ساتھ تو نہیں کیا تھا انہوں نے تو کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن اس کے بھی واضح ثبوت موجود ہیں کہ افغان طالبان کے مہمانوں میں اس وقت ٹی ٹی پی بھی شامل ہے اور ٹی ٹی پی نے وقتاً فوقتاً ایسے بیانات جاری کیے ہیں جس سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹی ٹی پی کی ہمدردیاں اس وقت بی ایل اے کے ساتھ بھی ہیں اور وہ بی ایل اے کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔
’اس کی وجوہات ہیں اور اس کے علاوہ ایک چیز جو بہت اہم ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے جتنے بھی دشمن ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس وقت وہ کم خرچے میں اپنا زیادہ کام نکال لیں۔ ہندوستان اس وقت خطے میں بالکل اکیلا ہو چکا ہے ایک آخری ملک بنگلہ دیش اس کے پاس رہ گیا تھا وہ بھی اب ہمارے کیمپ میں آگیا ہے۔‘
محمود جان بابر نے کہاکہ بھارت اب کم خرچے پر زیادہ کام نکالنا چاہتا ہے، وہ افغانستان میں ان پاکستان مخالف گروپوں کو خرچہ دے کر ان سے وہ کام لینا چاہتا ہے جو وہ خود ہندوستان میں بیٹھ کر کر سکتا تھا لیکن وہ اب ایسا نہیں کر پا رہا، جس کی سب سے بڑی وجہ مئی کی جنگ بنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ مئی کی جنگ کے بعد پاکستان بہت آگے نکل گیا اور ہندوستان دنیا میں بہت پیچھے رہ گیا۔ اب اس سے وہ ہضم نہیں ہو رہا تو وہ فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لے رہا ہے کیونکہ بہار انتخابات میں انتہا پسند ووٹر کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے اسے یہ سب کرنا ہے۔
’کل جب دہلی میں حملہ ہوا تو ہمیں لگا کہ بھارت کوئی اور ایڈونچر کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان کے اندر بھی دو جگہوں پر حملے ہو گئے۔ افغانستان میں اس وقت بھی جو لوگ ہیں وہ ابھی تک طے نہیں کر پائے کہ انہوں نے دنیا کے ساتھ رہنا کس طرح ہے، وہ اب پاکستان کے بارے میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔‘
محمود جان بابر نے کہاکہ کل انہوں نے پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو ایسا لگتا ہے کہ اب افغانستان کی پالیسی صرف یہ ہے کہ وہ کس کس کا نام استعمال کر کے کہاں کہاں سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔
’افغانستان اپنی پالیسیوں سے بہت محدود مقاصد حاصل کر سکتا ہے‘’لیکن میرا خیال ہے کہ وہ بہت محدود مقاصد حاصل کر سکتا ہے، یہ دو ملکوں کا معاملہ نہیں ہے اس میں اس وقت پاکستان کے جو دیگر دشمن ممالک ہیں خصوصاً ہندوستان وہ اپنی کوشش کررہا ہے اور پاکستان کو اس وقت ایک صورتحال کا سامنا ہے کہ ایک طرف افغانستان اس کے خلاف یہ حرکتیں کررہا ہے اور دوسری طرف وہ ہندوستان ہے۔‘
مزید پڑھیں: افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، اسلام آباد اور وانا حملوں کا ایسا جواب دیں گے کہ دنیا دیکھے گی، خواجہ آصف
انہوں نے کہاکہ یہ ایک مشکل صورتحال ہے لیکن پاکستان نے اپنی جو حیثیت مئی میں بتا دی تھی اس سے لگتا ہے کہ وہ یہ جنگ بھی جیت جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغان طالبان افواج پاکستان بھارت پاک افغان تعلقات تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی دہشتگردی مشرق بارڈر مغربی بارڈر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان افواج پاکستان بھارت پاک افغان تعلقات تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی دہشتگردی وی نیوز بھارت اور افغانستان مذاکرات کی ناکامی اور افغانستان کے استنبول مذاکرات ا سلام ا باد میں اسلام ا باد میں انہوں نے کہاکہ میں ہونے والے سلام ا باد پر افغانستان کی افغان طالبان چاہتے ہیں کہ افغانستان ا پاکستان کے پاکستان کو کہ پاکستان رہا ہے اور کہ اس وقت کے ذریعے کررہا ہے کہ بھارت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی پر حملے کی کوشش سکتا ہے کے اندر کے ساتھ کر سکتا رہے ہیں کوشش کر ہیں اور حملے کی کے خلاف تھا کہ لیکن ا کے لیے اور اس کے بعد
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔