فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیڈٹ کالج وانا پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد کیا ہدایات دی تھیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانہ میں کیڈٹ کالج پر افغان خوارج کے دہشت گرد حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ تمام طلبا اور عملہ محفوظ ہیں جبکہ حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد مارے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود آپریشن کی نگرانی کی اور موقع پر موجود کمانڈرز کو ہدایت دی کہ یہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، ان میں سے کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں خود کش دھماکا، وانا کیڈٹ کالج پر بھی وار، آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟
آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر کے مطابق 10 نومبر کو پانچ افغان خوارج نے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا۔ ایک خودکش حملہ آور نے داخلی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دیگر نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں ایک مخصوص بلاک میں محدود کر دیا تاکہ تمام کیڈٹس کی جانیں محفوظ رہیں۔ کرنل طاہر کے مطابق رات 10 سے ساڑھے 10 بجے کے دوران بھرپور آپریشن کے بعد تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
کیڈٹس نے بتایا کہ وہ شام کے وقت ڈرل مقابلے کی تیاری کر رہے تھے جب اچانک دھماکا ہوا۔ انہوں نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ تعلیم دشمن عناصر کا حملہ ہے جو انہیں علم سے روکنا چاہتے ہیں۔ پاکستان آرمی کے جوانوں نے اپنی جانوں کو ڈھال بنا کر طلبہ کو محفوظ مقام تک منتقل کیا۔
یہ بھی پڑھیے: کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام دہشتگرد ہلاک، طلبا اور اساتذہ کو ریسکیو کرلیا گیا
کیڈٹس نے عزم ظاہر کیا کہ دشمن کبھی بھی ان کی تعلیم اور عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ اساتذہ نے بھی طلبہ کو تسلی دی کہ پاک فوج پہنچ چکی ہے، سب محفوظ رہیں۔
سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے ایک بڑا دہشت گرد منصوبہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خودکش حملہ دہشتگردی فیلڈ مارشل عاصم منیر کیڈٹ کالج وانا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خودکش حملہ دہشتگردی فیلڈ مارشل عاصم منیر کیڈٹ کالج وانا کیڈٹ کالج وانا
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں