اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ، ماڈل اور ڈیجیٹل کریئیٹر میرب علی حال ہی میں انگلی کی سرجری کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج رہیں۔
میرب علی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے مداحوں کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ایک انگلی میں طویل عرصے سے حرکت کے دوران مسئلہ درپیش تھا جس میں انگلی کا ’لاک‘ ہو جانا اور محدود حرکت شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی وائرل ویڈیو کے بعد میرب علی کا انسٹاگرام پر طنزیہ پیغام
اداکارہ کے مطابق ابتدائی طور پر ان کا معائنہ ریمیٹولوجسٹ اور نیورولوجسٹ نے کیا جنہوں نے انہیں فٹ قرار دیا تاہم بعد ازاں آرتھوپیڈک سرجن نے مسئلے کے حل کے لیے سرجری تجویز کی۔
View this post on Instagram
A post shared by Merub Ali (@meruub)
میرب علی نے بتایا کہ انہوں نے اس آپریشن کو معمولی طبی عمل سمجھا تھا تاہم سرجری ان کی توقع سے زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ثابت ہوئی۔ یہ آپریشن کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں کیا گیا۔
انہوں نے اپنے مداحوں کے لیے ویڈیو پیغام بھی جاری کیا جس میں انہوں نے اپنی صحت سے متعلق صورتحال سے آگاہ کیا۔ اداکارہ کی سرجری کی خبر سامنے آنے کے بعد شوبز شخصیات اور مداحوں کی جانب سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عاصم اظہر اور میرب علی نے راہیں جدا کرلیں، گلوکار نے اپنے پیغام میں کیا کہا؟
مایا خان، درِفشاں سلیم، ثناء فہد، رابعہ کلثوم سمیت متعدد فنکاروں نے بھی ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے میرب علی کو آرام کرنے اور موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ تکلیف میں اضافہ نہ ہو۔
میرب علی ڈرامہ سیریلز صِنفِ آہن، پریستان، وبال اور فرار کے ذریعے شہرت حاصل کر چکی ہیں۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ قانون کی ڈگری بھی رکھتی ہیں اور ماڈلنگ کے شعبے میں بھی اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔ گزشتہ سال ان کی اور گلوکار عاصم اظہر کی منگنی ختم ہونے کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عاصم اظہر میرب علی میرب علی سرجری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میرب علی میرب علی سرجری میرب علی کے لیے
پڑھیں:
ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔
زیرِ زمین عسکری نیٹ ورکقشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زیرِ زمین ’میزائل سٹیز‘ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخآبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذقشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔
ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کا قشم جزیرہ