سری لنکا کیخلاف جیت: غلطیاں ہوتی ہیں اور سیکھنا بھی ضروری ہے، حارث رؤف
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قومی فاسٹ بالر حارث رؤف نے کہا ہے کہ غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیکھنا بھی ضروری ہے۔
سری لنکا سے فتح کے بعد قومی فاسٹ بالر حارث رؤف نے پریس کانفرنس میں اپنی ٹیم کی کامیابی کو اللہ کی رحمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک پلان ہمارا ہوتا ہے، ایک دوسروں کا، مگر سب سے درست پلان اللہ کا ہوتا ہے، وہی بہترین فیصلہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیم نے متحد ہوکر بہترین کھیل پیش کیا اور اللہ کے فضل سے کامیابی حاصل کی۔
حارث رؤف نے کہا کہ کرکٹ میں کامیابی اور ناکامی دونوں سفر کا حصہ ہیں۔ کھلاڑی ہمیشہ اپنی اگلی ذمہ داری کے لیے تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ملک کے لیے کھیلنے کو فخر سمجھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے میچ میں موسم نے کئی مواقع پر کھیل پر اثر ڈالا، لیکن انہوں نے خود کو متحرک رکھا تاکہ بالنگ کے وقت پوری توجہ برقرار رہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اکثر ایسے کھلاڑیوں کو یاد رکھا جاتا ہے جو کسی ایک میچ میں ناکام ہوں، حالانکہ وہ پہلے کئی فتوحات میں حصہ لے چکے ہوتے ہیں۔ یہ سوچ بدلنی ہوگی، کیونکہ ہم روبوٹ نہیں، انسان ہیں۔ غلطیاں سب سے ہوتی ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ ہم ان سے سیکھیں اور بہتر بنیں۔
فاسٹ بالر کا مزید کہنا تھا کہ میدان میں معافی نہیں ملتی، وہاں پرفارمنس سب کچھ ہے۔ ہر دن ایک نیا موقع ہوتا ہے ۔ کبھی برا دن آتا ہے تو اگلی صبح نئی امید لے کر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ برے وقت میں بھی خود پر یقین رکھے۔
بابر اعظم کے شاندار کیچ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ وہ واقعی آؤٹ اسٹینڈنگ کیچ تھا۔ بابر کیچنگ میں ہمیشہ غیر معمولی رہے ہیں۔ میدان میں ایسے لمحات آتے ہیں جو کھیل کا رخ بدل دیتے ہیں، مگر ایک پروفیشنل کھلاڑی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان سے سیکھے اور اگلے موقع پر مزید بہتر کارکردگی دکھائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ٹیم اس وقت توانائی کے ساتھ کھیل رہی ہے، ہر کھلاڑی ایک دوسرے کی مدد کر رہا ہے اور سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ پاکستان کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچانا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ