افغان حکومت کا پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات پر افسوس کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
کابل: افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے اسلام آباد خودکش دھماکے اور وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد اور وانا میں ہونے والے یہ دہشت گرد حملے انتہائی افسوسناک ہیں، ان واقعات میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرا دکھ ہے۔ طالبان حکومت نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے تمام واقعات کی مذمت کرتا ہے اور ایسے اقدامات کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ طالبان حکومت نے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے جی الیون کچہری کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 زخمی ہوئے تھے، جبکہ دو روز قبل وانا میں کیڈٹ کالج پر فتنۂ خوارج کے دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا حملے میں ملوث دہشت گردوں کے روابط افغانستان سے تھے۔ وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں واقعات کی تحقیقات کے ٹھوس شواہد بین الاقوامی فورمز پر پیش کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔