data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں افغان مداخلت کے شواہد ثالث ممالک کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب بھرپور انداز میں دے گا، اسے خالی نہیں جانے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے محض افسوس یا مذمتی بیانات سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان کی پناہ میں موجود افراد بار بار پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ وانا کیڈٹ کالج پر حملے کے دوران پاک فوج نے اللہ کے فضل سے تمام کیڈٹس کو محفوظ رکھا۔

بھارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان حالیہ کشیدگی کے بعد سے مسلسل ہائی الرٹ پر ہے، بھارت افغانستان کے راستے جارحیت میں ملوث ہے، اور کسی کو اس حقیقت پر شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے ہمسائے کا رویہ دشمنی پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، بیشتر حملوں میں افغان دہشت گرد شامل ہوتے ہیں۔ اگر دوست ممالک کوئی ثالثی کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو اعتراض نہیں، لیکن افغان طالبان کے زبانی وعدوں پر اب کسی کو بھروسہ نہیں رہا۔ ان کے بقول، ثالثوں کے ذہن میں بھی یہ بات واضح ہے کہ ان واقعات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان نے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی