افغان پاسنگ آؤٹ پریڈمیں پاکستان مخالف ترانے اور آگ لگانے کی دھمکیاں، خطے میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغانستان میں پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران پڑھے گئے پاکستان مخالف ترانوں نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق تقریب کے دوران پڑھے گئے ترانوں میں اسلام آباد کو آگ لگانے اور لاہور میں جھنڈے گاڑنے جیسے اشتعال انگیز اشعار شامل تھے۔
تقریب میں پاکستان کے خلاف شدید نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی جس نے سفارتی حلقوں میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے وزیر نوراللہ نوری نے 7 نومبر کو سندھ اور پنجاب پر حملوں کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا۔
مزید برآں، طالبان انٹیلیجنس سے منسلک ڈیجیٹل میڈیا اکاؤنٹس بھی کئی بار اسلام آباد پر خودکش حملوں کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جس سے پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے پاک افغان تعلقات پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور دہشت گردی کے خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔