بیرسٹر گوہر علی خان نے 27ویں آئینی ترمیم کو ’باكو ترمیم‘ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم حساس معاملہ ہے، عوام خوش ہوتے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور عدلیہ مضبوط ہوگی، مگر آج بدقسمت دن ہے، آج وہ اپنی طاقت کے بل پہ بلڈوز کرنے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: 27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے: رانا ثنااللہ نے تصدیق کردی
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ یہ ترمیم جمہوریت کے لیے ایک سوگ کا دن ہے اور اسے منظور کرکے حکومت خود کو ایسے اختیارات دے رہی ہے جس سے سزا سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم ون کے بعد پی ڈی ایم ٹو کی حکومت اقتدار میں آتے ہی اپنے کیسز معاف کرواتی رہی، اور اب اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آئین میں ترامیم کے ذریعے خود کو احتساب سے مستثنیٰ کروا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب آگے کیا ہوگا؟
بیرسٹر گوہر علی خان نے ترمیم کو ’باكو ترمیم‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد جمہوریت صرف نام کی ہوگی۔ آپ کے خوف کو سلام، آپ کے ڈر کو سلام، وہ مرد آہن جیل میں ہے، باہر آئے گا تو حقیقت سامنے آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’باكو ترمیم‘ 27ویں آئینی ترمیم بیرسٹر گوہر علی خان قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم بیرسٹر گوہر علی خان قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔