پارلیمنٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے اسے آئین، عدلیہ اور جمہوری اداروں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرام راجہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت سے پیش ہو کر آئے ہیں اور آج سے ہی جج صاحبان کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھی ہے۔

ان کے مطابق عدالتی نظام عملاً ختم ہو چکا ہے۔ عوام نے مسلم لیگ (ن) کو صرف 16 نشستیں دی تھیں، لیکن انہیں پیپلز پارٹی کی مدد سے دو تہائی اکثریت میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت کو تاحیات استثنیٰ دے کر قانون سے بالاتر بنا رہی ہے۔ پرویز مشرف جیسے آمر کو بھی عدالت نے آئین شکنی پر سزائے موت سنائی تھی، لیکن آج کے حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھ رہے ہیں۔

سلمان اکرام راجہ کا کہنا تھا کہ کل سینیٹ سے 27ویں ترمیم 64 ووٹوں سے منظور کی گئی، اور سب جانتے ہیں کہ سینیٹ کی موجودہ تشکیل 26ویں ترمیم کے بعد کس طرح ممکن ہوئی تھی۔ آج عدلیہ کے ججوں کے چہرے مایوس اور دل بجھے ہوئے ہیں۔

سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کر گئے تھے، تو حکومت نے دعا کرنے کے بجائے عجلت میں 27ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔

’اس ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی حیثیت بھی ختم کر دی گئی، عدلیہ پر قبضہ کر لیا گیا اور ججز کے تبادلوں کے اختیارات حاصل کر لیے گئے۔ جو جج ان کے خلاف فیصلہ دے گا، اس کی ٹرانسفر کر دی جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم میں عدلیہ کو کمزور کیا گیا اور اب 27ویں ترمیم سے چند افراد کو مزید طاقتور بنا کر مسلط کر دیا گیا ہے۔ ’عوام بھیڑ بکریاں نہیں، عوام جاگ چکی ہے اور جلد ان حکمرانوں کا احتساب کرے گی۔‘

سربراہ مجلس وحدت مسلمین سینیٹرعلامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اب بے آئین ہو چکا ہے، جس صدر کی تاریخ سب کے سامنے ہے، اسے تاحیات استثنیٰ دے دیا گیا ہے، یہ آئین نہیں بلکہ چند طاقتوروں کا منشور ہے۔

’جس بھٹو نے اس ملک کو آئین دیا، اس کی حکومت ایک جنرل نے گرائی تھی، اور اب انہی ترامیم سے چار خدا بنا دیے گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ آئین میں صاف درج ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ لیکن آج ذاتی مفاد کے لیے آئین کو مسخ کر کے چند افراد کو نوازا گیا ہے۔

’عوام ان چہروں کو پہچانیں جو ووٹ کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔ اب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘

وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین، مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 2 ججز کا خط سامنے آیا، تاہم یہ معاملہ اب محض خط لکھنے کے مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے وہ ستون منہدم کیا جا رہا ہے جو پاکستان کی عدلیہ کی آزاد حیثیت اور عوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ، سیاسی جماعتیں، اپوزیشن کے قائدین اور عوام اس ترمیم پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، آزاد عدلیہ ہر شہری کا حق ہے۔

ججز کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عوامی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے تمام ذمے دار ادارے اپنا کردار ادا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

27ویں آئینی ترمیم پریس کانفرنس پی ٹی آئی تاحیات استثنیٰ سلمان اکرم راجہ سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس لطیف کھوسہ مجلس وحدت مسلمین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم پریس کانفرنس پی ٹی ا ئی تاحیات استثنی سلمان اکرم راجہ سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس لطیف کھوسہ پریس کانفرنس ترمیم کے کہا کہ

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی

پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔

اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔

پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔

اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔

پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ