اپوزیشن اتحاد کا مجوزہ 27ویں ترمیم کیخلاف ملک گیر تحریک کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اپوزیشن اتحاد نے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔
تحریک چلانے کا اعلان سربراہ اپوزیشن اتحاد محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس نے کیا۔
علامہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ قوم 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمانتحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوانزادہ حسین یوسف زئی کا کہنا ہے کہ 27 ویں ترمیم ایسے وقت میں لائی گئی جب اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی ہے، قوم سے حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔
سربراہ اپوزیشن اتحاد محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین ریاست اور باسیوں کے درمیان عمرانی معاہدہ ہوتا ہے، مجھ سے آئین کے تحفظ کا 5 بار حلف لیا گیا ہے۔ عوام بھی پوچھتے رہے کہ کب تحریک کی ابتدا ہونی ہے، جس طرح یہ آئین کی بنیادوں کو ہلا رہے ہیں تحریک کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ عوام کو کوئی تسلیم نہیں کر رہا لہٰذا ہم عوام کے پاس جا رہے ہیں، کل رات سے ہماری ملک گیر تحریک شروع ہو جائے گی، ہمارا کل رات سے ایک ہی نعرہ ہوگا جمہوریت زندہ باد آمریت مردہ باد، ہمارا تیسرا نعرہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم بتائیں گے پاکستان کے عوام جو چاہیں گے وہی فیصلہ ہوگا، ہم بتائیں گے کہ آئین بالادست، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔