گلگت بلتستان میں انتخابی اتحاد کیلئے تمام جماعتوں سے رابطے میں ہیں، علامہ شبیر میثمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اسلامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور سیاسی کمیٹی کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر شبیرحسن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں اسلامی تحریک بھرپور حصہ لے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور سیاسی کمیٹی کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر شبیرحسن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں اسلامی تحریک بھرپور حصہ لے گی، ہم پارلیمانی سیاست کرنے والی تمام جماعتوں سے انتخابی اتحاد کے لیے رابطے میں ہیں، حتمی فیصلہ خطے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں کریں گے۔ میڈیا نمائندو ں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں، ہم نے ان کا موقف سنا ہے جبکہ ان پر اسلامی تحریک نے بھی اپنا موقف واضح کیا ہے۔ اب تک کسی جماعت کو انکار کیا ہے اور نہ ہی کسی جماعت سے اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فیصلہ جو بھی ہوگا، ان شاء اللہ سب کے سامنے اور خطے کے عوام کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئینی حقوق دے کر گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوسرے صوبوں کے برابر نمائندگی دی جائے۔ علامہ شبیر حسن میثمی نے یاد دلایا کہ یہاں کے عوام نے جنگ لڑ کر ڈوگرا راج سے خود آزادی حاصل کی اور قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کر کے پاکستان سے غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا، مگر افسوس 78 سال ہو چکے ہیں، گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہیں دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے عوام نے قائد ملت اسلامیہ علامہ سید ساجد علی نقوی پر اعتماد کیا اور ان کے حکم پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے امیدواروں کو کامیاب کروایا۔ ہم نے پہلے حکومت تشکیل دی اور پھر مختلف حکومتوں کا حصہ بھی رہے۔ انشاء اللہ اسلامی تحریک آئندہ بھی عوامی توقعات پر پورا اترے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی تحریک گلگت بلتستان
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔