بھارت۔دلہن پر کالے جادو کے بہانے وحشیانہ تشدد
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوٹائم: بھارت میں ریپ کے بعد توہم پرستی کے وواقعات بھی بڑھتے جارہے ہیں،توہم پرستی کا سب سے بڑا دیش بھارت میں ایک دلہن کو کالے جادو کے نام پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
دلہنوں کے شاندار استقبال اور خصوصی مہمان نوازی کے برعکس، کیرالہ کے کوٹیم میں ایک نوبیاہتا خاتون کو مبینہ طور پر کالے جادو کی رسومات کے نام پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا-
پولیس نے اس معاملے میں خاتون کے شوہر اور سسر سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اس خاتون کے والد کی جانب سے منارکاڈ پولیس میں شکایت کے بعد عمل میں آئیں جب مبینہ تشدد کی وجہ سے خاتون کی ذہنی صحت بگڑ گئی۔
شکایت کنندہ نے کہا کہ اس کی بیٹی کی شادی کے بعد، اس کی ساس نے کالے جادو کی رسم کا اہتمام کیا، یہ دعویٰ کیا کہ متوفی رشتہ داروں کی روحیں نوجوان عورت کے جسم میں موجود ہیں۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ ساس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، سیون تھرومینی نامی ایک پجاری نے 2 نومبر کو کئی گھنٹے صبح 11 بجے سے رات 9 بجے تک کالے جادو کی رسم انجام دی۔
پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں، خاتون نے کہا کہ ملزم نے چونا اور ہلدی ملایا، اور پھر ہولی راکھ (بھسم) کو ملا کر تین مختلف پیالوں میں ڈالا۔
“پوجا شروع ہونے کے فوراً بعد، وہ ایک لمبا ریشمی کپڑا لے کر آئے اور اسے میرے جسم پر باندھ دیا۔ کچھ دیر بعد میں ہوش کھو بیٹھی۔ انہوں نے مجھے سگریٹ پلایا اور شراب پینے پر مجبور کیا۔” اس دوران خاتون جھلس کر زخمی ہوئی۔
شکایت کے بعد پولیس حرکت میں آگئی اور معاملہ درج کرلیا۔ پولیس نے خاتون کے شوہر 26 سالہ اکھل داس اور اس کے والد، 55 سالہ پجاری کو گرفتار کر لیا ہے۔
پہلا ملزم (پجاری) جس نے اپنا فون بند کر دیا تھا اور واقعہ کے بعد روپوش ہو گیا تھا، کو تھرو والا کے متھور علاقے سے پکڑا گیا تھا۔ بعد ازاں ملزمان کو قانونی چارہ جوئی کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
واقعے میں ملوث خاتون کی ساس اور دیگر ساتھی فی الحال مفرور ہیں۔ بعد ازاں ملزمان کو قانونی چارہ جوئی کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
پولیس کو مبینہ تشدد کی ایک مبینہ ویڈیو بھی ملی ہے۔ مبینہ طور پر اس کے شوہر کی بہن کی طرف سے بنائی گئی اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ملزم کی طرف سے خاتون کو باندھ کر رسم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رسومات کے دوران اس کی ٹانگیں ریشم کے کپڑے سے باندھ دی گئیں، اس کے بالوں میں ایک کیل مروڑ دیا گیا اور آخر کار اس کے بالوں کے سرے کاٹ دیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔