مولانا فضل الرحمان نے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی حمایت کردی ہے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق دیکھیں گے، اپوزیشن ایوان میں اکھٹی ہو گی، جو حکمت عملی ہوگی و متفقہ ہوگی، مولانا فضل الرحمان نے کھانے پر بلایا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر بنانے کی حمایت کردی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا وفد جے یو آئی سربراہ کی رہائش گاہ اسلام آباد پہنچا۔ وفد میں نامزد اپوزیشن لیڈر برائے قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، اسد قیصر اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس بھی شامل تھے۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق گفتگو کی گئی۔
پی ٹی آئی رہنماء اسد قیصر نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکر گزار ہیں، انہوں نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے کی حمایت کی ہے، اب محمود خان کی تقرری کا نوٹی فکیشن جلد جاری ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق دیکھیں گے، اپوزیشن ایوان میں اکھٹی ہو گی، جو حکمت عملی ہوگی و متفقہ ہوگی، مولانا فضل الرحمان نے کھانے پر بلایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔