این اے 66 وزیرآباد کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے بلال فاروق تارڑ بلا مقابلہ کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
وزیرآباد کے حلقہ این اے 66 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار بلال فاروق تارڑ بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے ہیں۔
ریٹرننگ افسر کی جانب سے بلال فاروق تارڑ کی بلا مقابلہ کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے اور فارم 34 الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ ریٹرننگ افسر نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارم 34 کی بنیاد پر بلال فاروق تارڑ کی کامیابی کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ این اے 66 کے انتخاب میں 30 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، تاہم سنی اتحاد کونسل اور پیپلز پارٹی سمیت 8 امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے، جبکہ دیگر امیدوار کاغذات واپس کرنے کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد الیکشن سے دستبردار ہو گئے۔
یاد رہے کہ این اے 66 کی نشست سنی اتحاد کونسل کے احمد چٹھہ کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلال فاروق تارڑ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔