حلقہ این اے 66 وزیر آباد سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بلال فاروق تارڑ بلامقابلہ کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66 وزیر آباد سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بلال فاروق تارڑ بلامقابلہ کامیاب ہوگئے۔
ریٹرننگ آفیسر شبیر حسین بٹ کی جانب سے سرکاری فارم 34 جاری کر دیا گیا، پی ٹی آئی کے امیدوار محمد احمد چٹھہ نے ریلی کے انعقاد کے بعد پارٹی پالیسی کے مطابق انتخابی عمل سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔
بعد ازاں چٹھہ فیملی نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے، بلال فاروق تارڑ کی علاقہ کے دیگر معززین اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
انہوں نے بلال فاروق تارڑ کی سماجی و سیاسی خدمات کو سراہتے ہوئے تعاون کا اعلان کیا، بعد ازاں دیگر امیدواروں نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے۔
یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حلقہ عوامی سطح پر بلال فاروق تارڑ کی نیک نامی، خدمت اور ترقیاتی کاموں کا معترف ہے، پیپلز پارٹی نے بھی حلقہ این اے 66 میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
بلال فاروق تارڑ واحد امیدوار کے طورپرسامنے آئے اور الیکشن کمیشن نے ان کی کامیابی کا باضابطہ طور پر نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلال فاروق تارڑ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔