شمالی دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے مظالم، فرار ہوتے 150 سے زائد خواتین جنسی تشدد کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خرطوم: سوڈان کے شورش زدہ خطے شمالی دارفور میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جہاں شہریوں کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے جنگجوؤں نے الفاشر شہر سے فرار ہوتے ہوئے درجنوں خواتین کو جنسی زیادتی اور ہراسانی کا نشانہ بنایا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق مقامی تنظیم جنرل کوآرڈینیشن فار ڈسپلیسڈ پرسنز اینڈ ریفیوجیز ان دارفور کے ترجمان آدم ریگل نے انکشاف کیا کہ اب تک 150 سے زائد خواتین متاثر ہوچکی ہیں، مسلح جنگجوؤں نے الفاشر سے نکلنے والے عام شہریوں کا تعاقب کیا اور قرنی کے علاقے میں کئی افراد کو یرغمال بنایا، جہاں اب بھی ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں، جن میں متعدد بچے اپنے والدین سے بچھڑ چکے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ گولیاں لگنے سے 1300 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، جبکہ 1200 سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 700 بزرگ افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، 15 ہزار سے زائد افراد کسی نہ کسی طرح تاویلہ شہر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، مگر زیادہ تر زخمی یا شدید ذہنی صدمے میں ہیں۔
انہوں نے عالمی اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ادویات، خوراک، صاف پانی، عارضی پناہ گاہیں، حفظانِ صحت کی سہولتیں اور بچوں کے لیے نفسیاتی امداد فراہم کریں تاکہ مزید جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے،تاویلہ شہر میں پہلے ہی لاکھوں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے ہیں، مگر اب وہاں 10 لاکھ سے زائد داخلی طور پر بے گھر افراد موجود ہیں، جس سے انسانی بحران مزید بڑھ گیا ہے۔
مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ RSF نے 26 اکتوبر کو الفاشر شہر پر قبضے کے بعد شہریوں پر بڑے پیمانے پر مظالم ڈھائے، جنہیں ماہرین سوڈان کی ممکنہ تقسیم کی سمت ایک خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق الفاشر اور اطراف کے علاقوں سے اب تک 81 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ سوڈان میں 15 اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی تنظیم RSF کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی کوششیں اس جنگ کو ختم کرانے میں تاحال ناکام رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔