گھوٹکی میں مارے گئے 8 ڈاکوؤں میں مشہور مجرم کی موجودگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گھوٹکی کے علاقے رونتی کچہ میں ہونے والے بھرپور آپریشن کے دوران مارے گئے 8 مطلوب ڈاکوؤں کی شناخت کر لی گئی ہے۔
ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ کے مطابق ہلاک ڈاکو سندھ اور پنجاب کے سنگین جرائم میں انتہائی مطلوب تھے اور اس آپریشن میں 20 سے زائد انعام یافتہ ڈاکو زخمی بھی ہوئے۔ آپریشن میں رینجرز اور وفاقی سول انٹیلی جنس ایجنسی کی مکمل معاونت حاصل تھی۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ اس آپریشن میں 12 ڈاکو ہلاک ہوئے اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں میں سوبوعرف گونو شر 13 سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، اکبرعرف اکبری شر 2 پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت 17 سے زائد سنگین جرائم میں ملوث تھا، جبکہ شاہنواز عرف شاہوکوش 12 پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا اور اس پر 50 لاکھ روپے انعام تھا۔
مزید برآں، جاگن عرف ودیوکوش 5 پولیس افسران کے قتل میں مطلوب تھا، غلام عرف جانب شر 21 سے زائد مقدمات میں ملوث تھا، نذیر شر 8 سے زائد سنگین نوعیت کے مقدمات میں مطلوب تھا، غشو عرف گل شیر 3 سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، اور قربان شر کا کرمنل ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں مطلوب تھا مقدمات میں
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔