اسلام آباد ہائیکورٹ: وقاص احمد و سہیل علیم کے خلاف مقدمات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل، اغوا کیس کو مثالی کیس بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ: وقاص احمد و سہیل علیم کے خلاف مقدمات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل، اغوا کیس کو مثالی کیس بنانے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 8 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) سابق چیف ایگزیکٹو افسر پی آئی اے مشرف رسول کا وقاص احمد، سہیل علیم کے ساتھ لین دین کا تنازعہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وقاص احمد اور سہیل علیم کیخلاف اسلام آباد میں درج مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر بڑا حکم جاری کر دیا ۔
عدالت نے اب تک کی پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحقیقات کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق جے آئی ٹی تمام مقدمات کی آزادانہ طور پر تحقیقات کرے،
عدالت نے خاتون اور کم سن بچوں کے اغوا اور اس سے متعلق جرائم میں تفتیشی افسر اور پولیس اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اور سیکریٹری داخلہ کو ڈائریکٹر کرائمز کے مساوی عہدے کا افسر تعینات کرنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے متعلقہ افسر سے آئندہ سماعت پر مقدمات کے تمام پہلوؤں سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق وفاقی سیکریٹری داخلہ لاہور سے خاتون اور اسکے تین کمسن بچوں کے اغواء کے مقدمے کو ایک مثالی کیس بنائیں،
تحریری حکمنامے مطابق ایک خاتون اور اس کی تین کم سن بیٹیوں کو صوبائی دارالحکومت لاہور سے اغوا کیا گیا،
لاہور پولیس کو اس واقعے کی کوئی اطلاع دی گئی نہ ہی یہ معاملہ ان کو رپورٹ کیا گیا۔
عدالتی حکم کے مطابق وفاقی سیکریٹری داخلہ آئی جی پنجاب و سیکریٹری داخلہ پنجاب اور حکومتِ پنجاب کو مناسب ہدایات جاری کریں،
پنجاب حکومت اپنے طور پر ایک انکوائری کا آغاز کرے،
حکمنامے کے مطابق 17 ستمبر 2025 کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری کریں ،
جس سی سی ٹی وی میں خاتون ثنا اور اس کے تین کم سن بچوں کو لاہور میں اغوا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 20 نومبر تک رپورٹ طلب کرلی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
سہیل علیم کی اہلیہ اور تین بچیوں کی لاہور سے خلاف ضابطہ گرفتاری کی گئی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کے احتسابی ویژن کو سلام، دو سال سے بطور ٹیم ساتھ چلنے والے آفیسرز و آفیشل اچانک نااہل و کرپٹ ہو گئے ؟ کیسے؟ عہدوں سے فارغ کیوں؟ تفصیلات سب نیوز پر وزیراعظم شہباز شریف نیوفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس، 27ویں ترمیم پر ارکانِ مجالس عاملہ کو اعتماد میں لیا گیا پنجاب حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ پر بڑا بریک تھرو سہیل آفریدی کا مساجد بارے بیان قومی وقار کو مجروح کرنے کی کوشش ہے، طاہر اشرفی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی صدر آذربائیجان سے ملاقات، یوم فتح پر مبارکباد دی مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ سہیل علیم کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔